Aaj News

اتوار, مئ 19, 2024  
10 Dhul-Qadah 1445  

آسمان سے برستے گوشت کی کہانی جس نے لوگوں کو چکرا دیا

بارش صرف پانی کی ہی نہیں ہوتی، آسمان آپ پر کب کیا برسا دے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔
شائع 08 نومبر 2022 04:24pm
اسکیچ کے زریعے مسز کراؤچ کے بیان کی وضاحت (تصویر: جیمز فوسڈائیک، ٹین اسپیڈ پریس)
اسکیچ کے زریعے مسز کراؤچ کے بیان کی وضاحت (تصویر: جیمز فوسڈائیک، ٹین اسپیڈ پریس)

دنیا بھر میں ہونے والی عجیب چیزوں کی بارش نے طویل عرصے سے انسانیت کی توجہ حاصل کی ہے اور اس بارے میں بہت کچھ لکھا گیا بھی ہے۔

مثال کے طور پر جون 2009 میں جاپان کے ایشیکاوا پریفیکچر کے رہائشی آسمان سے گرنے والے ٹیڈپولز، مینڈکوں اور مچھلیوں کو دیکھ کر حیران رہ گئے۔ لیکن کوئی نہیں جانتا کہ یہ سمندری جانور آسمان تک کیسے پہنچ گئے۔

 آسمان سے مچھلیوں کی برسات کا ایک علامتی منظر (تصویر: وکی میڈیا کامنز)
آسمان سے مچھلیوں کی برسات کا ایک علامتی منظر (تصویر: وکی میڈیا کامنز)

اس حوالے سے ایک نظریہ کہ ہوا کے بگولے نے ان جانوروں کو تالاب سے فضا میں پہنچا دیا، کافی معقول معلوم ہوتا ہے۔

بلاشبہ، یہ واحد جاندار نہیں تھے جو غیر متوقع طور پر آسمان سے زمین پر برسے۔ 7 فروری 2022 کو سیکیورٹی کیمرے نے چونکا دینے والا ایک منظر عکس بند کیا جس میں ہزاروں پیلے سروں والے سیاہ پرندوں کا ایک غول میکسیکو میں اچانک زمین سے ٹکرایا جس سے درجنوں پرندے ہلاک ہوگئے۔

کسی کو آج تک نہیں معلوم پرندوں نے یہ خودکش حرکت کیوں کی۔

آسمان سے گرنے والی دیگر عجیب و غریب اشیاء میں جیلی فش اور مکڑیاں شامل ہیں۔

لیکن مارچ 1876 میں ایک سنہری دھوپ والے دن امریکی ریاست کینٹکی ممیں ہونے والی گوشت کی بارش نے ان تمام واقعات کی دلچسپ نوعیت کو مات دی۔

عجیب و غریب موسمی مظاہر کی بات کی جائے تو ”کینٹکی میٹ شاور“ آج تک سر فہرست ہے۔

کینٹکی کے علاقے اولمپیا اسپرنگس کے قریب ایک فارم پر رہنے والی خاتون اس تمام معاملے کی عینی شاہد ہیں۔

انہوں نے بتایا تھا کہ آسمان سے اتنی تعداد میں گوشت گرا جو ”ایک گھوڑا گاڑی کو بھر سکتا تھا“۔

اگر آپ سوچ رہے ہیں کہ یہ کیسے ہوا تو آپ اکیلے نہیں۔

کینٹکی کے لیکسنگٹن میں ٹرانسلوینیا یونیورسٹی کے کرٹ گوہڈے، کینٹکی میٹ شاور کے واقعے پر تحقیق کرتے ہوئے اس بیان پر طویل عرصے سے الجھے ہوئے ہیں۔

کینٹکی میٹ شاور کو واضح کرنے کی چاہ نے گوہڈے کو موسم سے متعلق عجیب و غریب تجربے کے بارے میں کتابیں تلاش کرنے پر مجبور کیا۔

اسکول کے آرکائیو میں پرانے پورٹریٹ کی کھوج کے دوران، انہیں ایک جیک پاٹ ملا۔

یہ ایک قدیم برتن تھا جس میں گوشت کا نمونہ ایک پیلے رنگ کے مائع میں لٹکا ہوا تھا۔ جار کی عمر اور اس کی سابقہ تحقیق کی بنیاد پر، انہوں نے تصدیق کی کہ یہ گوشت 19ویں صدی کے میٹ شاور کا تھا۔

یہ پیشرفت دلچسپ ثابت ہوئی کیونکہ کینٹکی والوں نے اُس وقت اِس اہم چیز پر دھیان ضرور دیا تھا کہ اس دن آسمان سے کس قسم کا گوشت گرا تھا۔

اس کے بعد اس پہلو پر ایک اہم بحث چھڑ گئی ۔ کچھ نے کہا کہ یہ ریچھ کا گوشت ہے، جبکہ دوسروں نے قیاس آرائی کی کہ یہ مٹن ہو سکتا ہے۔

لیکن کینٹکی والوں میں ایک ”بہادر“ ایسا بھی تھا جس نے گوشت کا ذائقہ چکھنے کا فیصلہ کیا، لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا، گوشت کی پراسراریت برقرار رہی۔

مقامی اداروں میں نمونوں کی تقسیم کے بعد اسے چکھنے کی ہمت کے ٹیسٹ کے باوجود بھی کوئی طوفان یا اس سے جڑی کوئی وجہ کی مناسب وضاحت نہیں کرسکا۔

لیکن آخر کار اب وائلڈ لائف کنزرویشن سوسائٹی کے جو والسٹن کی بدولت ایک وضاحت سامنے آئی ہے اور یہ واقعی سننے میں کافی ناگوار ہے۔

گِدھ کی اُلٹی

والسٹن بتاتے ہیں کہ جب گدھ ڈرتے ہیں، تو انہیں فوری طور پر اڑنا پڑتا ہے اور دوران پرواز یہ ان کیلئے مشکل ہوتا ہے کہ وہ ابھی جس جانور کا گوشت کھارہے تھے اسے ہضم کئے بنا بوجھ کے ساتھ اڑتے رہیں۔

چونکہ گوشت بھاری ثابت ہوتا ہے، تو بوجھ ہلکا کرنے کے لیے وہ قے کرتے ہیں۔ دوران پرواز ان کے لیے ایسا کرنا کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔

 گدھ پرواز کی تیاری میں (تصویر: نارتھ کیرولینا زو)
گدھ پرواز کی تیاری میں (تصویر: نارتھ کیرولینا زو)

جائے وقوعہ سے پائے جانے والے گوشت کے نمونے اس نظریہ کی تائید کرتے ہیں، حالانکہ گوشت کے ماخذ کی شناخت ابھی باقی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم یہ جانتے ہیں کہ نمونے میں موجود گوشت کے ٹکڑے صفائی سے کٹے ہوئے نہیں بلکہ ادھیڑے گئے گوشت کے تھے اور ان میں پھیپھڑوں اور کارٹلیج کے ٹشو تھے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ کسی قصائی نے اسے نہیں کاٹا۔

گِدھ کی قے کے نظریہ پر سائنس کو کچھ اعتماد ہے اور اس سے ایک واضح سبق بھی ملتا ہے کہ آسمان سے گرنے والے گوشت کو ہڑپ کرنے سے پہلے دو بار ضرور سوچیں۔

Kentucky Meat Shower

Spider Rain

Frog rain

Fish rain