Aaj News

جمعرات, مئ 23, 2024  
14 Dhul-Qadah 1445  

پنجاب اسمبلی میں آئینی بحران، آج ووٹ نہ لینے پر پرویز الہیٰ کو ڈی نوٹیفائی کرنے کی دھمکی

پی ڈی ایم اراکین آج سہ پہر اسمبلی پہنچیں گے، ہنگامے اور احتجاج کا امکان
اپ ڈیٹ 21 دسمبر 2022 02:47pm
پنجاب اسمبلی۔ فائل فوٹو
پنجاب اسمبلی۔ فائل فوٹو

پنجاب اسمبلی میں آئین اور رولز کی الگ الگ تشریح کے سبب آئینی بحران پیدا ہر گیا ہے۔ پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے اسپیکر نے اجلاس جمعہ تک ملتوی کردیا ہے جب کہ پی ڈی ایم کا کہنا ہے کہ پرویز الہیٰ نے آج اعتماد کاووٹ نہ لیا تو گورنر بلیغ الرحمان انہیں ڈی نوٹیفائی کر دیں گے، یعنی عہدے سے ہٹا دیں گے۔

پی ڈی ایم اور پیپلز پارٹی کے اراکین پنجاب اسمبلی آج سہہ پہر اسمبلی پہنچنے کا ارادہ رکھتے ہیں جہاں ہنگامہ خیزی کا امکان ہے۔ پرویز الہیٰ کے ایما پر اسمبلی کا اسٹاف اراکین کو روکنے کی کوشش کر سکتا ہے۔

اسپیکر کی رولنگ

اسپیکر پنجاب اسمبلی سطین خان نے منگل کے روز رولنگ جاری کی کہ سیشن کے دوران گورنر نیا اجلاس نہیں بلاسکتے، آئینی دفعات کے تحت ہی اجلاس کو ختم کیا جا سکتا ہے،اجلاس ختم ہونے پر گورنر نیا اجلاس طلب کر سکتے ہیں۔

سطبین خان نے کہاکہ آج کی کارروائی ختم ہوگئی لہٰذا صوبائی اسمبلی کا اجلاس جمعے تک ملتوی کیا جاتا ہے۔رولنگ میں کہا گیا کہ عدالت نے فیصلہ دیا تھا کہ اعتماد کے ووٹ کے لئے کم از کم 10 دن دئیے جائیں گے، گورنر آرٹیکل 109 کے تحت اجلاس طلب یا ختم کر سکتا ہے :تاہم گورنر نے اس اجلاس کو ختم کرنے کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا۔ورنر کا اعتماد کے ووٹ کیلئے کہنا آئین کے مطابق درست نہیں، اسی لئے وزیراعلیٰ کو اعتماد کے ووٹ کے لئے گورنر کی ہدایت داخل دفتر کی جاتی ہے۔

اسپیکر نے لاہور ہائیکورٹ کا انیس سو چھیانوے کا فیصلہ بھی رولنگ کا حصہ بنایا۔

پی ڈی ایم کا موقف

دوسری جانب پی ڈی ایم کا کہناہے کہ پرویزالہٰی نے اعتماد کا ووٹ نہیں لیا تو وزارت اعلی سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے،ن لیگ، پیپلزپارٹی اور دیگر اتحادی آج سہ پہر چار بجے پنجاب اسمبلی پہنچیں گے۔

وزیراعظم شہبازشریف کی زیر صدارت پی ڈی ایم کے اجلاس میں اسپیکر سبطین خان کا موقف غلط قرار دیا گیا اور کہاگیا کہ پرویز الہی نے اعتماد کا ووٹ نہ لیا تو گورنر انہیں ڈی نوٹیفائی کردیں گے۔

ہنگامہ آرائی متوقع

مسلم لیگ(ن)، پیپلز پارٹی اور ان کے حامی اراکین پنجاب اسمبلی آج چار بجے اسمبلی پہنچنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ اس موقع پر امکان ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب اور اسپیکر سطبین خان کے ایما پر ان اراکین کو اسمبلی میں داخلے سے روکا جا سکتا ہے یا کم ازکم ان کے گاڑیوں سمیت آنے پر پابندی لگائی جا سکتی ہے۔ اس صورت میں ہنگامہ بھی متوقع ہے۔

تحریک انصاف کے اراکین ممکنہ طور پر اسمبلی نہیں آئیں گے۔

قانونی پیچیدگی

آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم اور اسپیکر پنجاب اسمبلی کی طرف سے رولز اور آئین کی الگ الگ تشریح کی جا رہی ہے جب کہ آئین رولز سے اوپر ہے۔

اس وقت دو آئینی معاملات زیر بحث ہیں۔ ایک جانب پنجاب کی اپوزیشن نے وزیراعلی اور اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرا رکھی ہے تو ساتھ ہی گورنر پنجاب وزیراعلیٰ کو کہہ چکے ہیں کہ وہ اعتماد کا ووٹ لیں۔ اگر پرویزالہیٰ اعتماد کا ووٹ لینے میں کامیاب نہیں ہوتے یا تحریک عدم اعتماد ناکام نہیں بنا پاتے تو وہ عہدے سے محروم ہو جائیں گے اور اسمبلی توڑنے کی سمری بھیجنے کا اختیار ان کے پاس نہیں رہے گا۔

اسپیکر کی رولنگ کی آڑ میں پرویز الہیٰ نے اعتماد کا ووٹ لینے سے گریز کیا ہے۔

جسٹس (ر) شائق عثمانی کہہ چکے ہیں کہ اگر گورنر نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ وزیر اعلیٰ سے کہیں کہ آپ اعتماد کا ووٹ لیں، تو اس میں کوئی رکاوٹ نہیں یہ ہونا ہی ہونا ہے۔

تاہم تحریک انصاف اس موقف سے اتفاق نہیں کرتی۔

ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کی ایک ممکنہ حکمت عملی یہ بھی ہوسکتی ہے کہ جمعہ کو اجلاس منعقد ہوتے ہی عدم اعتماد کی تحریکوں پر ووٹنگ کرا دی جائے اور اس کے ساتھ ہی اسمبلی توڑنے کی سمری گورنر کو بھیج دی جائے۔

تاہم آئینی صورت حال اس کے بعد بھی واضح نہیں ہوگی اور معاملہ عدالت میں جا سکتا ہے۔

punjab assembly

Chaudhry Pervaiz Elahi

governor punjab

Speaker Punjab Assembly

Assembly dissolution

Politics Dec21 2022