Aaj News

جمعرات, فروری 29, 2024  
18 Shaban 1445  

جلاؤ گھیراؤ، پولیس پر تشدد کیس: پی ٹی آئی رہنماؤں کی عبوری ضمانت میں توسیع

کب تک تحقیقات مکمل کرلیں گے، عدالت کا استفسار
اپ ڈیٹ 07 اپريل 2023 11:50am
فوٹو۔۔۔۔۔ رائٹرز
فوٹو۔۔۔۔۔ رائٹرز

لاہور کی انسداد دہشتگردی عدالت نے جلاؤ گھیراؤ، پولیس پر تشدد اور کار سرکار میں مداخلت کے کیس میں پی ٹی آئی رہنماؤں کی عبوری ضمانت میں 27 اپریل تک توسیع کردی۔

انسدادِ دہشت گردی عدالت لاہور کی جج عبہر گل خان نے جلاؤ گھیراؤ، پولیس پر تشدد اور کار سرکار میں مداخلت کیس کی سماعت کی۔

پی ٹی آئی رہنما اسد عمر، یاسمین راشد، مسرت جمشید چیمہ، اسلم اقبال، حسان نیازی اور زبیر نیازی عدالت پیش ہوئے۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کارکنان کی شناخت پریڈ کے بعد رہائی کی خبریں درست نہیں، پولیس کی وضاحت

ایس ایس پی عمران کشور نے بتایا کہ صرف اسد عمر شامل تفتیش ہوئے ہیں، ملزمان کو آج کے لئے دوبارہ نوٹس جاری کیے ہیں۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ ان کو ابھی شامل تفتیش کرلیں، بار روم میں لیجا کر بیانات ریکارڈ کرلیں۔

ایس ایس پی عمران کشور نے ملزمان کے بیانات ریکارڈ کرنے کے بعد عدالت کو بتایا کہ کرائم سین کا دورہ کرلیا ہے، ابھی تفتیش مکمل نہیں کی، گواہان کی موجودگی میں سوالات پوچھنے ہیں، روزانہ گواہان کو بلاتے ہیں۔

ملزمان کے وکیل نے کہا کہ انہیں بلانے کے آرڈر موصول نہیں ہوئے۔

مزید پڑھیں: اشتعال انگیزی، جلاؤ گھیراؤ، پولیس پرحملے کے الزام میں 198 پی ٹی آئی کارکنان گرفتار

عدالت نے استفسار کیا کہ کب تک تحقیقات مکمل کرلیں گے، جس پر ایس ایس پی نے کہا کہ میں تو روزانہ انتظار کرتا ہوں، گواہان کے سامنے سوالات جوابات کے 2 روز بعد کارروائی مکمل کرلیں گے۔

عدالت نے حکم دیا کہ تمام نامزد افراد آج اڑھائی بجے ایس ایس پی کے دفتر پہنچیں۔

ملزمان کے وکیل نے کہا کہ ایسا نہ ہو وہاں پیش ہوں تو کسی اور مقدمے میں گرفتار کر لیں۔

عدالت نے کہا کہ اپ اپنا بندوبست کرکے جائیں، جس پر ملزمان کے وکیل نے کہا کہ وہاں داخل ہوکر واپس نکلنا ممکن نہیں ہوگا۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ اس حوالے سے احکامات جاری کردیتے ہیں۔

عدالت نے ملزمان کی عبوری ضمانت میں 27 اپریل تک توسیع کردی۔

یاد رہے کہ اس مقدمے میں فرخ حبیب کی ضمانت عدم پیروی پر خارج ہو چکی ہے جبکہ مراد سعید نے ضمانت حاصل نہیں کی۔

ATC

lahore

pti leaders and workers

Burn and surround

Police violence

Comments are closed on this story.

تبصرے

تبولا

Taboola ads will show in this div