Aaj News

جلیل شرقپوری کی پی ٹی آئی سے استعفے کی تردید

میرے نام سے ایک جعلی ٹوئٹر اکاؤنٹ پروان چڑھ رہا ہے ، جلیل شرقپوری
شائع 20 اپريل 2023 06:18pm
اسکرین گریب
اسکرین گریب

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما میاں جلیل احمد شرقپوری نے جعلی ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ان کے استعفے کی خبریں پھیلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔

جمعرات 20 اپریل کو میاں جلیل احمد شرقپوری کے نام سے بنے ایک ٹوئٹر اکاؤنٹ سے کچھ پیغامات جاری کئے گئے جن میں پارٹی ٹکٹ نہ ملنے پر عمران خان اور پی ٹی آئی سے علیحدگی کا اعلان کیا گیا تھا۔

مبینہ جعلی ٹوئٹس میں لکھا گیا کہ شدید ترین دباؤ کے باوجود مشکل وقت میں عمران خان کا ساتھ دیا، آج جب صوبائی اسمبلی کی پارٹی ٹکٹس بانٹی گئیں تو وعدوں کےباوجود میری قربانیوں کو نظرانداز کردیا گیا، میں آج ابھی پاکستان تحریک انصاف چھوڑنےکا باضابطہ اعلان کرتا ہوں۔

ایک اور ٹوئٹ میں کہا گیا کہ عمران خان صاحب ٹکٹ کا ایک کروڑ نذرانہ مانگتے ہیں، شوکت خانم کے لیے الگ ڈونیشن مانگتے ہیں جو کہ میرے پاس نہیں ہے ۔خدا گواہ ہے کہ مسلم لیگ ن میں ٹکٹ کے نام پر ایسی لوٹ مار نہیں ہوتی۔

مبینہ جعلی اکاؤنٹ JalilShraqpuri@ کا ہینڈل استعمال کررہا ہے جبکہ، جلیل شرقپوری کا اصل اکاؤنٹ JalilSharaqpuri@ سے ہے۔

جلیل احمد شرقپوری نے اپنے اصل اکاؤنٹ پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں ان جعلی ٹوئٹس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ’میرے نام سے ایک جعلی ٹوئٹر اکاؤنٹ پروان چڑھ رہا ہے ، ہمارا جو اصل ٹوئٹر اکاؤنٹ ہے وہ یہ ہے جس پر یہ ویڈیو میسیج آرہا ہے ، جو ہم نے آج سے دو ہفتے پہلے بنایا ہے، اس سے پہلے میرا کوئی ٹوئٹر اکاؤنٹ نہیں تھا، جو یہ فراڈ کر رہا ہے ہم اس کیخلاف ایف آئی آر کروانے جا رہے ہیں۔ غلط خبریں میری طرف سے چلائی جارہی ہیں ، ہم عمران خان صاحب کے ساتھ ہیں، میں نے خود یہ فیصؒہ کیا تھا اور پارٹی قائدین کو بھی انفارم کردیا تھا کہ ابھی جو صوبائی انتخابات ہو رہے ہیں، جیسے ضمنی الیکشن میں میں نے خود ودڈرا کیا تھا خود الیکشن نہیں لڑنا چاہ رہا تھا، ابھی بھی میرا صوبائی انتخابات میں حصہ لینے کا ارادہ نہیں تھا، ہم پارٹی کے ساتھ ہیں اور بھرپور طریقے سے ہمارے حلقے کے امیدوار انہیں سپورٹ کریں گے‘۔

حیرانی کی بات یہ ہے کہ مبینہ جعلی اکاؤنٹ نے جلیل شرقپوری کا ویڈیو پیغام بھی اپنے اکاؤنٹ پر شئیر کردیا۔ حالانکہ اس جعلی اکاؤنٹ پر ”فین اکاؤنٹ“ واضح کیا ہوا ہے۔

Politics April 20 2023

Comments are closed on this story.

تبصرے

تبولا

Taboola ads will show in this div