Aaj News

جمعرات, اپريل 25, 2024  
16 Shawwal 1445  

کالر سے پکڑ کر کھینچیں گے تو عوام میں انتشار پھیلے گا، لاہور ہائیکورٹ

عدالت نے عثمان بزدار کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا
شائع 12 مئ 2023 03:20pm
سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار
سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار

لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔ جسٹس انوار الحق پنوں نے ریمارکس دیے کہ سیاسی انتقام ہمارے ملک میں پرانا وتیرہ ہے، ریاست اپنے رویے پر بھی نظر ثانی کرے، پولیس کی جگہ رینجرز کو بھیجیں گے اور کالر سے پکڑ کر کھینچیں گے تو عوام میں انتشار آئے گا۔

لاہور ہائیکورٹ جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے عثمان بزدار کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات فراہم کرنے کی درخواست پر سماعت کی۔

دوران سماعت جسٹس طارق سلیم شیخ نے ریمارکس دیے کہ گزشتہ ایک سال سے جو ملک میں ہورہا ہے اس پر ہم آنکھیں بند نہیں کرسکتے، 2 گھنٹے پہلے مقدمہ درج ہوتا ہے اس کے بعد گرفتاری کر لی جاتی ہے، ہمیں اس نقطے پر دلائل دیں کیا کسی کو انصاف تک رسائی حاصل ہے یا نہیں۔

جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ کیا سیاسی رہنماؤں کی ذمہ داری نہیں ہے وہ کارکنوں کو روکیں، ماضی میں بھی گرفتاریاں ہوتی رہیں کیا یہ کوئی پہلی گرفتاری تھی جس کے بعد اتنا ہنگامہ ہوا، ماضی والی گرفتاریاں درست تھی یا غلط وہ بعد میں ثابت ہوئی یا نہیں۔

جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ محترمہ بینظیر بھٹو پر قاتلانہ حملہ ہوا کارکن زخمی ہوئے اتنا ردعمل نہیں آیا، ہمیں 10 سال ماضی میں واپس جانا پڑے گا ماضی میں کیا کیا ہوتا رہا، اس پر بھی رپورٹ آنی چاہیئے کہ سیاسی رہنماؤں کا کیا کردار ہوتا ہے۔

جسٹس انوار الحق پنوں نے وکیل پنجاب حکومت سے کہا کہ سیاسی انتقام ہمارے ملک میں پرانا وتیرہ ہے، ریاست اپنے رویے پر بھی نظر ثانی کرے، پولیس کی جگہ رینجرز کو بھیجیں گے اور کالر سے پکڑ کر کھینچیں گے تو عوام میں انتشار آئے گا۔

انہوں نے کہا کہ کیا ایسے گرفتار کیا جاسکتا ہے جس طرح آپ نے گرفتار کیا ، شیشے توڑے گئے اور شیشے توڑنا غلط کام تھا، عام آدمی کسی کا دروازے توڑے تو فوری دفعہ 427 لگتی ہے، آپ لوگوں کے گھروں میں چھاپے مار رہے ہیں تو توڑ پھوڑ کررہے ہیں اس پر قانونی دفعہ کیوں نہیں لگتی، آپ نے سپریم کورٹ کے ساتھ پچھلے ایک سال میں کیا کیا ہے، آپ اخبارات سے چیزیں پڑھ کر عدالتوں میں پیش ہوجاتے ہیں۔

وکیل پنجاب حکومت نے جواب دیا کہ قانون سب کے لیے برابر ہے، عدالتوں کو انفرادی طور کسی خاص شخص کو خاص ریلیف نہیں دینا چاہیے۔

دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے عثمان بزادر پر درج مقدمے کا ریکارڈ آئندہ سماعت پر پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

pti

Usman Buzdar

Lahore High Court

politics may 12 2023

Comments are closed on this story.

تبصرے

تبولا

Taboola ads will show in this div