Aaj News

ہفتہ, جون 15, 2024  
09 Dhul-Hijjah 1445  

آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا بڑھتا استعمال، گرافک کارڈز کمپنی کو اربوں ڈالر کا فائدہ

حصص میں 26 فیصد اضافہ ہوا، کمپنی 1 ٹریلین ڈالر کی مارکیٹ ویلیو کے قریب پہنچ گئی، این ویڈیا کارپوریشن
اپ ڈیٹ 26 مئ 2023 10:32pm
تصویر بذریعہ روئٹرز
تصویر بذریعہ روئٹرز

مصنوعی ذہانت کے عروج کی بدولت گرافک کارڈز بنانے والی کمپنی این ویڈیا کو بیٹھے بٹھائے اربوں ڈالر کا فائدہ ہوگیا۔

این ویڈیا کے بارے میں ہوسکتا ہے کہ آپ نے نہ سنا ہو لیکن مصنوعی ذہانت کے عروج کی بدولت یہ اب تاریخ کی سب سے قیمتی کمپنیوں میں سے ایک ہوگئی ہے۔

این ویڈیا کا اچانک دنیا کی سب سے قیمتی کمپنیوں میں شمار کیوں ہوگیا۔ کمپنی برسوں سے ایسی کمپیوٹر چپس بنا رہی ہے جو گرافکس سے بھرپور ویڈیو گیمز چلا سکتی ہیں۔

یاد رہے کہ کئی سال قبل مصنوعی ذہانت کے محققین نے انہی چپس کو طاقتور نئے الگورتھم کو چلانے کے لیے استعمال کرنا شروع کیا جو اس شعبے میں کامیابیوں کا باعث بن رہے تھے۔

اس ہفتے کمپنی نے آمدنی کی اطلاع دی اور طلب میں ناقابل یقین اضافے کی وضاحت کی۔ یہ اعلان ایسے وقت میں کیا گیا جب ٹیکنالوجی کی دنیا مصنوعی ذہانت کے نئے ورژن تیار کرنے کی دوڑ میں ہے۔

امریکی کمپنی این ویڈیا چیٹ جی پی ٹی اور اسی طرح کی بہت سی خدمات کے لئے استعمال ہونے والی چپس کی مارکیٹ پر سبقت رکھتی ہے اور کمپنی کے اسٹاک میں اضافے کی ایک اہم وجہ یہی سمجھی جارہی ہے۔

این ویڈیا کارپوریشن کا کہنا ہے کہ ڈیٹا سینٹرز میں موجود 1 ٹریلین ڈالر کے موجودہ آلات کو اے آئی چپس سے تبدیل کرنے سے اس کے اسٹاک کی قیمت میں اضافہ ہوگا۔

این ویڈیا کارپوریشن کے حصص میں تقریبا 26 فیصد اضافہ ہوا ہے ، جس سے کمپنی 1 ٹریلین ڈالر کی مارکیٹ ویلیو کے قریب پہنچ گئی ہے۔

کمپنی کی آمدنی سے ظاہر ہوتا ہے کہ ممکنہ طور پر یہ کسی کمپنی کی قیمت میں ایک دن میں سب سے بڑا اضافہ ہوا ہے۔

واضح رہے کہ جمعرات کو ہونے والے اضافے سے رواں سال اسٹاک میں دو گنا سے زیادہ اضافہ ہوا اور اس سے این ویڈیا کی مالیت تقریبا 196 ارب ڈالر بڑھ کر تقریبا 951 ارب ڈالر ہو جائے گی، جس سے یہ کسی بھی امریکی فرم کے لیے ایک دن میں سب سے بڑا اضافہ ہوگا۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق اسٹاک کی قیمت میں اضافے کا مطلب ہے کہ این ویڈیا اب 939.3 بلین ڈالر کی مالیت کی حامل ہے۔ یہ رقم ٹیسلا اور فیس بک سے بھی زیادہ ہے جن کی مالیت بالترتیب 584.7 ارب ڈالر اور 647.6 ارب ڈالر ہے۔ اور یہ ایپل، گوگل، مائیکر و سافٹ اور ایمیزون کی بڑی ٹیک کمپنیوں اور سعودی سرکاری تیل کمپنی سعودی آرامکو سے پیچھے ہے۔

Artificial Intelligence

ChatGPT

Artificial Sweeteners