Aaj News

اتوار, مئ 26, 2024  
17 Dhul-Qadah 1445  

آزاد امیدوار اور عوام، کیا تاریخ رقم ہونے کو ہے؟

وقت آگیا ہے عوام کے زور دکھانے کا، اپنا غصہ باہر نکالنے کا
شائع 07 فروری 2024 06:28pm

ملک بھر میں سیاسی جماعتوں نے جلسے، ریلیاں اور کارنر میٹنگز تمام کرلیں، اب جو مہم بھی چلائی جائے گی وہ سوشل میڈیا پر ہی ہوسکے گی، اور سوشل میڈیا پر ایک سیاسی جماعت کی مہم زوروں پر ہے، یعنی پاکستان تحریک انصاف۔ جسے براہ راست عوام میں جانے کی اجازت نہ ملی، حالانکہ الیکشن کمیشن یکساں سیاسی میدان فراہم کرنے کے دعوے بھی کرتا رہا ہے۔

یوں تو ہر الیکشن میں ہی آزاد امیدوار ہوتے ہیں لیکن اس بار آزاد امیدواروں کی موجودگی الیکشن کی نئی سمت متعین کرسکتی ہے، کراچی سے لے کر خیبر تک قومی اسمبلی ہو یا صوبائی اسمبلیاں، آزاد امیدواروں کی بڑی تعداد الیکشن میں حصہ لے رہی ہے، بہت سے آزاد امیدوار پی ٹی آئی حمایت یافتہ ہیں اور سندھ میں بھی کچھ آزاد امیدواروں کی بانی ایم کیو ایم نے حمایت کردی ہے۔

کیا دونوں کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار کامیابی حاصل کرسکیں گے؟ کیا یہ آزاد امیدوار فتح کے بعد اپنی آزادی برقرار رکھ پائیں گے؟ یا پھر موجودہ سیاسی جماعتوں کی صفوں میں جا بیٹھیں گے؟ یہ وہ سوالات ہیں جو ہر ایک کے ذہن میں ہیں۔

ہر صوبے کی صورتحال دیکھیں تو خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار میدان میں ہیں، مسلم لیگ ن، عوامی نیشنل پارٹی، جماعت اسلامی، پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹیرینز اور تحریک لبیک پاکستان قابل ذکر ہیں، صوبے میں ووٹرز کی تعداد دو کروڑ انیس لاکھ اٹھائیس ہزار ایک سو انیس ہے، ان میں نوجوان ووٹرز کی تعداد خاصی ہے، کوئی مانے یا نہ مانے نوجوانوں کی بڑی تعداد تحریک انصاف کی حمایتی ہے، وہ اس وقت مایوسی اور غصے کا شکار ہیں۔

پنجاب میں اصل مقابلہ کس میں ہوگا، پی پی کا کہنا ہے کہ میدان میں تیر اور شیر ہی ہیں، لیکن اس صوبے میں اصل جوڑ مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی میں پڑنے کا امکان ہے، بلاول بھٹو این اے ایک سو ستائیس سے امیدوار ہیں اور ان کے مقابل عطا تارڑ ہیں، کون جیتے گا یہ الگ بات ہے، لیکن بلاول بھٹو زرداری نے واضح کردیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے پنجاب میں انٹری ڈال دی ہے اور وہ اب واپس جانے کے لیے نہیں آئی، اپنا حلقہ اثر بڑھائے گی اور ایک بار پھر خود کو ملکی پارٹی کی سطح پر لے جائے گی۔

اسی طرح ایک اہم مقابلہ لاہور میں نواز شریف اور یاسمین راشد کے درمیان ہوگا، یاسمین راشد اس وقت جیل میں ہیں اور تحریک انصاف سے ان کی محبت کا سب کو اندازہ ہے، کینسر کی مریضہ ہیں، لیکن سو جوانوں کی ایک جوان ہیں، چاہے موسم کوئی سا ہو، وہ پی ٹی آئی کے ساتھ رہی ہیں، یہی چیز انھیں دوسروں سے ممتاز کرتی ہے، لگتا یوں ہے کہ یہ حلقہ پی ٹی آئی کے مستقبل کا تعین کرے گا۔

سندھ میں کوئی بڑا چمتکار ہوتا دکھائی نہیں دے رہا، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم سمیت دیگر جماعتیں مدمقابل ہیں، پی پی کو اندرون سندھ فتح کا یقین ہے، شہری علاقوں میں ایم کیو ایم فتح کی دعوے دار ہے، لیکن ایک پارٹی کو یہ دونوں جماعتیں شاید بھول گئی ہیں کہ جسے تحریک لبیک پاکستان بھی کہتے ہیں، ٹی ایل پی کا اپنا ووٹ بینک بہت زیادہ تو نہیں ہے لیکن دو ہزار اٹھارہ کے الیکشن میں اس نے اپنی موجودگی ثابت کردی تھی اور ملک بھر سے پچیس لاکھ کے قریب ووٹ حاصل کیے تھے۔

کراچی میں ایم کیو ایم کا ووٹر اس کی کارکردگی سے ناراض ہے، بانی ایم کیو ایم نے بھی موجودہ ایم کیو ایم کی مخالفت کردی ہے اور اپنا وزن آزاد امیدواروں کے پلڑے میں ڈال دیا ہے، شہر کا ناراض ووٹر کس طرف جائے گا، یہ کسی کو بتانے کی ضرورت ہے، نہ سمجھنے کی۔ شاید اسی لیے ایم کیو ایم کے امیدواروں کا لہجہ تلخ بھی ہوچکا ہے اور انھوں نے اے این پی سے اتحاد بھی کرلیا، یہ اتحاد کتنا کامیاب ہوگا، انتخابی نتائج سے پتا چل جائے گا۔

ایک نظر بلوچستان پر ڈالیں تو وہاں کی صورتحال ویسی ہی ہے جیسی ہوتی ہے، یہاں بھی آزاد امیدوار ہیں، مسلم لیگ ن اور بی این پی مینگل میں اتحاد ہے، مولانا فضل الرحمان بھی این اے دو پینسٹھ پشین سے امیدوار ہیں، انتخابی مہم بھی چلائی گئی ہے، بینرز اور پوسٹرز بھی لگے، انتخابی جلسے، جلسیاں اور ریلیاں بھی ہوئیں، لیکن ہوگا وہی جو ہمیشہ ہوتا آیا ہے۔ شاید کسی بھی جماعت کو اکثریت نہ ملے، ہر پارٹی دوسری کی محتاج اور یہ سب ان کے محتاج ہوں گے جو کسی کے محتاج نہیں، پورا ملک ان کا محتاج ہے۔

ایسا نہیں ہے کہ یکساں انتخابی میدان صرف پی ٹی آئی کو نہیں ملا، بی این پی سمیت کئی اور سیاسی جماعتوں کو بھی نہیں ملا۔ مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی، جے یو آئی، ایم کیو ایم سمیت جن جن جماعتوں کو مہم چلانے کی اجازت تھی، ان سب نے اپنا زور لگا لیا۔ کچھ تجزیہ نگاروں کی رائے میں آزاد امیدواروں کی بڑی تعداد الیکشن میں کامیاب ہوسکتی ہے، لیکن کیا وہ وہ قوتیں جنھوں نے لوگوں کو آزاد لڑنے پر مجبور کیا ہے، کیا وہ ان لوگوں کی کامیابی ہضم کرپائیں گے؟

اب وقت آگیا ہے عوام کے زور دکھانے کا، اپنا غصہ باہر نکالنے کا۔ کیا غصیلے اور ناراض ووٹرز گھر سے نکلیں گے؟ ووٹ ڈالیں گے؟ یا گھر پر بیٹھے رہیں گے؟ میرے خیال میں ووٹر گھر سے باہر نکلے تو تاریخ رقم کردیں گے اور اگر نہ نکلے تو ایک بار پھر پھٹی پرانی تاریخ کا حصہ بنے رہیں گے۔

Election 2024

GENERAL ELECTION 2024