Aaj News

قومی اسمبلی کے تمام نتائج مکمل، پی ٹی آئی حمایت یافتہ آزاد 92، ن لیگ 74، پی پی 54 نشستوں پر کامیاب

باپ کو بھی ایک سیٹ مل گئی، ایم کیو ایم 17 سیٹوں کے ساتھ تیسری بڑی جماعت
اپ ڈیٹ 11 فروری 2024 01:43pm

الیکشن کمیشن کی آفیشل ویب سائٹ پر قومی اسمبلی کے حلقوں کے نتائج مرحلہ وار جاری کردیے گئے ہیں۔ 8 فروری کو ہونے والی پولنگ کے نتائج اتوار کی صبح ساڑھے گیارہ بجے تک جاری کیے گئے۔ آزاد امیدوارسیاسی جماعتوں سے آگے رہے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ویب سائٹ پر ہفتہ کی صبح 7 بجے تک قومی اسمبلی کی 250 نشستوں کے سرکاری وحتمی نتائج جاری کیے گئے تھے، کئی گھنٹوں کے بعد بقیہ 15 میں سے مزید 3 حلقوں کے نتیجے جاری کردیے گئے۔ مزید نتائج ہفتے کی شام 5 بجے کے بعد آئے۔ جب کہ بقیہ نتائج اتوار کی صبح جاری کیے گئے۔

الیکشن کمیشن کے نتائج کے مطابق آزاد امیدواروں نے کم از کم 101 نشستیں جیتی ہیں جبکہ پی ایم ایل این 75 نشستوں کے ساتھ اور پی پی پی 54 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی سیاسی جماعتیں بن کر سامنے آئیں۔ آزاد امیدواروں کی تعداد اور دو بڑی سیاسی جماعتوں کی جیتی ہوئی نشست کے درمیان فرق اتوار کی صبح مزید نتائج آنے کے بعد کم ہو گیا۔

اگرچہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ نتائج میں پی ٹی آئی حمایت یافتہ آزاد اراکین کی الگ شناخت نہیں کی گئی تاہم آج نیوز کی جانب سے مرتب کردہ تفصیلی نتائج کے مطابق 101 آزاد اراکین میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ اراکین کی تعداد 92 ہے جب کہ نو دیگر کا عمران خان کی جماعت سے کوئی تعلق نہیں۔

ایم کیو ایم پی نے کم از کم 17 قومی اسمبلی کی نشستیں نہ صرف کراچی بلکہ سندھ کے دیگر شہروں سے جیتی ہیں۔ پارٹی نے 18 سیٹوں پر جیت کا دعویٰ کیا تھا اور ووٹوں کی گنتی بڑھنے کے ساتھ ہی اس کی تعداد میں اضافہ ہوا۔

چوہدری شجاعت کی مسلم لیگ (ق) نے 3 اور مولانا فضل الرحمان کی جے یو آئی نے 4 نشستیں حاصل کیں۔

اخترمینگل کی بلوچستان نیشنل پارٹی اورجہانگیر ترین کی استحکام پاکستان پارٹی کو2، 2 نشستیں ملیں جب کہ بلوچستان عوامی پارٹی، نیشنل پارٹی، پشتونخواہ نیشنل عوامی پارٹی، پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی، مسلم لیگ ضیا اور مجلس وحدت المسلمین نے ایک ایک نشست حاصل کی۔

گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس، عوامی نیشنل پارٹی، اور جماعت اسلامی قومی اسمبلی میں ایک بھی نشست جیتنے میں ناکام رہیں۔

قومی اسمبلی کی 266 جنرل نشستوں میں سے ایک این اے 8 پر الیکشن نہیں ہوا جب کہ این اے 88 کا نتیجہ روک دیا گیا ہے۔

تاہم یہ نتائج بھی حتمی نہیں اور الیکشن کمیشن نے ان کے ساتھ provisional یعنی عبوری کا لفظ استعمال کیا ہے۔

ان نتائج میں تبدیلی بھی دیکھنے میں آئی۔آ زاد امیدواروں کی تعداد اتوار کی صبح تک 102 بتائی جا رہی تھی جو بعد میں 101 ہوگئی۔

این اے 254 سے بلوچستان عوامی پارٹی کے خالد مگسی کی کامیابی کا اعلان کیا گیا تھا جو واپس لے لیا گیا تاہم اب ایک بار پر خالد مگسی کو کامیاب قرار دے دیا گیا ہے۔

انتخابی نتائج سست روی کا شکار کیوں ہوئے؟

انتخابی نتائج میں تاخیر کے حوالے سے وفاقی وزارت داخلہ کا موقف تھا کہ نتائج کی پروسیسنگ میں تاخیر فول پروف سکیورٹی یقینی بنانے کے لیے اٹھائی گئی احتیاطی تدابیر کا نتیجہ تھی۔

وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ نتخابی عملے اور بیلٹ دونوں کا تحفظ کو یقینی بنانے کے پروٹوکول جامع ہیں جس میں خاصا وقت صرف ہوا۔ اب صورتحال تسلی بخش ہے اور توقع ہے کہ نتائج کی آمد کا سلسلہ مسلسل جاری رہے گا۔

دوسری جانب الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے چیف سیکرٹریز، ڈسٹرکٹ ریٹرنگ افسران اور صوبائی الیکشن کمشنرز سے ذاتی طور پر فون پر رابطہ کرتے ہوئے انہیں نتائج کا فوری اعلان یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے پولنگ کا وقت ختم ہونے کے 9 گھنٹے بعد پہلا غیرسرکاری و غیرحتمی نتیجہ سامنے آیا تھا۔

نواز شریف کی کامیابی کے اعلان میں بھی گھنٹوں تاخیر

الیکشن کمیشن نے جو نتائج جاری کیے ان میں ابتدا میں ہی پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر گوہر کی کامیابی کی تصدیق کی گئی جو آزاد حیثیت میں الیکشن لڑ رہے تھے۔

انہی نتائج میں این اے 118 سے شہباز شریف اور این اے 119 سے مریم نواز کی کامیابی کی تصدیق کی گئی۔

تاہم این اے 15 مانسہرہ سے مسلم لیگ (ن) نے نواز شریف کی کامیابی کا دعویٰ کیا گیا تھا جب کہ الیکشن کمیشن کے نتائج اس کے الٹ آئے اور یہ دعویٰ غلط ثابت ہوا۔

دوسری جانب لاہور کے حلقہ این اے 130 میں نواز شریف اور یاسمین راشد کے درمیان سخت مقابلہ ہوا اور اگرچہ ابتدائی نتائج میں نواز شریف کی سبقت کا اشارہ ملا لیکن الیکشن کمیشن نے جمعہ کی شام 9 بجے کے بعد این اے 130 سے نوازشریف کی کامیابی کا اعلان کیا۔

الیکشن کمیشن کے فارم 47 کے مطابق نواز شریف 179310 ووٹ لے کر کامیاب رہے جب کہ یاسمین راشد نے 104485 ووٹ لیے۔ تحریک لبیک کے امیدوار نے اسی حلقے سے 20 ہزار ووٹ لیے۔

الیکشن کمیشن کے جاری کردہ نتائج کے مطابق این اے 123 لاہور سے الیکشن لڑنے والے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے 63 ہزار 953 ووٹ حاصل کرکے انتخابی معرکہ اپنے نام کرلیا۔

شہباز شریف کے حریف آزاد امیدوار افضال عظیم کو 48 ہزار 486 ووٹ پڑے جبکہ اسی حلقے سے الیکشن لڑنے والے جماعت اسلامی پاکستان کے رہنما لیاقت بلوچ کو 3 ہزار 207 ووٹ ملے۔

پرویز الہٰی کی اہلیہ بھی ہار گئیں

الیکشن کمیشن کی جانب سے ایک اہم نتیجہ این اے 64 گجرات کا جاری کیا گیا جہاں پاکستان مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین کے بیٹے چوہدری سالک حسین نے ایک لاکھ 5 ہزار 205 ووٹ لے کر میدان مار لیا جبکہ آزاد حیثیت سے الیکشن میں حصہ لینے والی سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی کی اہلیہ قیصرہ الہٰی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا، ان کو 80 ہزار 946 ووٹ پڑے۔

انجم عقیل کامیاب

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 46 سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدوار انجم عقیل خان نے کامیابی حاصل کرلی، انہوں نے 81 ہزار 958 ووٹ لیے جبکہ ان کے مقابلے میں آزاد امیدوار عامر مسعود 44 ہزار 317 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

عمر ایوب کی کامیابی کی تصدیق

این اے 18 سے عمر ایوب کی کامیابی کا بھی الیکشن کمیشن نے اعلان کردیا۔ انہیں ایک لاکھ 92 ہزار سے زائد ووٹ ملے۔ مسلم لیگ ن کے بابر نواز خان کو ایک لاکھ 12 ہزار سے زائد ووٹ ملے۔ تحریک لبیک پاکستان کے محمد صالح کو 12 ہزار ووٹ ملے۔

راجہ بشارت کو شکست

الیکشن کمیشن کے نتئج کے مطابق این اے 55 راولپنڈی فور میں پاکستان مسلم لیگ ن کے ابرار احمد 78 ہزار 542 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے۔ ان کے مقابلے میں آزاد امیدوار محمد راجہ بشارت نے 67 ہزار 101 ووٹ لیے۔ اس حلقے میں سابق صدر ضیا الحق کے صاحبزادے اعجاز الحق کو صرف 25 ووٹ ملے۔

ایاز امیر ہار گئے

الیکشن کمیشن کے نتیجے کے مطابق این اے 58 چکوال ون سے بھی ن لیگ نے میدان مارلیا، لیگی امیدوار طاہر اقبال نے ایک لاکھ 15 ہزار 974 ووٹ حاصل کیے۔ ان کے مقابلے میں آزاد حیثیت سے الیکشن لڑںے والے ایاز امیر کو ایک لاکھ 2 ہزار 537 ووٹ پڑے۔

سردار غلام عباس کامیاب

این اے 59 تلہ گنگ کم چکوال سے بھی ن لیگ کامیاب ہوگئی، لیگی امیدوار سردار غلام عباس نے ایک لاکھ41 ہزار 680 ووٹ حاصل کیے۔ جبکہ آزاد امیدوار رومان احمد ایک لاک 29 ہزار 716 ووٹ حاصل کیے۔

امیر مقام ہار گئے

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 2 سوات ون سے آزاد امیدوار امجد علی خان نے 88 ہزار 938 ووٹ لے کر الیکشن جیت لیا جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیر مقام کو شکست کا سامنا کرنا پڑا، انہوں نے 37 ہزار 764 ووٹ لیے۔

اسد قیصر جیت گئے

این اے 19 صوابی ون سے پی ٹی آئی کی جانب سے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے والے امیدوار اسد قیصر نے ایک لاکھ 15 ہزار 635 ووٹ لے کر میدان مار لیا جبکہ جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے امیدار فضل علی نے 45 ہزار 567 ووٹ لیے۔

شاندارنہ گلزار بھی کامیاب

این اے 30 پشاور سے پی ٹی آئی حمایت یافتہ آزاد امیدوار شاندانہ گلزار کامیاب ہوگئی ہیں، فارم 47 کے مطابق شاندانہ گلزار نے 78 ہزار 971 ووٹ حاصل کیے۔

امیر حیدر اعظم خان کو شکست

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 22 مردان سے آزاد امیدوار محمد عاطف کامیاب ہوگئے، انہوں نے ایک لاکھ 14 ہزار 748 ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے مقابلے میں عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار امیر حیدر اعظم خان صرف 66 ہزار 159 ووٹ حاصل کرسکے۔

روحیل اصغر کو شکست

این اے 121 لاہور میں آزاد امیدوار وسیم قادر نے ن لیگ کے روحیل اصغر کو شکست دے دی، وسیم قادر نے 78 ہزار 703 ووٹ حاصل کیے جبکہ روحیل اصغر کو 70 ہزار 597 ووٹ ملے۔

ایمل ولی خان بھی ناکام

این اے 25 چارسدہ میں بھی انتخابی بازی آزاد امیدوار نے جیت لی، فضل محمد خان نے عوامی نیشنل پارٹی کے ایمل ولی خان کو شکست دے دی، فضل محمد خان نے ایک لاکھ 713 ووٹ لیے جب کہ 67 ہزار 876 ووٹ ملے۔

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 24 چارسدہ ون سے آزاد امیدوار انور تاج 89 ہزار 801 ووٹ لے کر جیت گئے جبکہ جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے امیدوار گوہر علی 48 ہزار 545 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 23 مردان 3 سے بھی آزاد امیدوار علی محمد جیتنے میں کامیاب ہوگئے انہوں نے ایک لاکھ 2 ہزار 175 ووٹ لیے جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار احمد خان 33 ہزار 910 ووٹ لے کر ہار گئے۔

این اے 10 بونیر میں آزاد امیدوار گوہر علی خان نے عوامی نشینل پارٹی کے امیدوار عبدالرؤف کو شکست دے دی، گوہر علی خان نے ایک ہزار 10 ہزار 23 ووٹ حاصل کیے جبکہ عبدالرؤف کو 30 ہزار 302 ووٹ ملے۔

این اے 17 ایبٹ آباد ٹو سے آزاد امیدوار علی خان جدون 97 ہزار 177 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے۔ مسلم لیگ ن کے امیدوار محبت خان کو 44 ہزار 522 ووٹ پڑے۔

این اے 3 سوات ٹو میں آزاد امیدوار سلیم رحمان 81 ہزار 411 ووٹ حاصل کرکے جیت گئے۔ ن لیگ کے واجد علی خان کو 27 ہزار 861 ووٹ ملے۔

پیپلزپارٹی امیدوار کامیاب

این اے 199 گھوٹکی سے پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے امیدوار علی گوہر خان مہر نے حریف کو بڑے مارجن سے شکست دی، انھوں نے 1 لاکھ 54 ہزار 832 ووٹ حاصل کیے۔ جب کہ ان کے حریف جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے عبدالقیوم نے 40 ہزار204 ووٹ لیے۔

ن لیگ کے بشیر احمد بھی ہار گئے

این اے 216 مٹیاری سے پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے مخدوم جمیل الزماں نے ایک لاکھ 24 ہزار 536 ووٹوں کے ساتھ کامیابی حاصل کی۔ جب کہ ن لیگ کے بشیر احمد کو 80 ہزر 439 ووٹ ملے۔

ںدیم افضل چن ن لیگ سے ہار گئے

پی ٹی آئی سے واپس پیپلز پارٹی میں آنے والے ندیم افضل چن این اے 82 سرگودھا میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار سے ہار گئے۔

صفدر عباسی کو بھی شکست

این اے 195 لاڑکانہ سے پیپلزپارٹی کے امیدوار نظیر احمد بگھیو نے ایک لاکھ 33 ہزار 830 ووٹ حاصل کیے اور الیکشن جیت لیا۔ جب کہ گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس (جی ڈے اے) کے صفد عباسی نے 48 ہزار 893 ووٹ لیے۔

پیپلز پارٹی امیدوار صادق علی میمن کامیاب

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 225 ٹھٹہ سے پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے امیدوار صادق علی میمن ایک لاکھ 40 ہزار 773 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے جبکہ مسلم لیگ ن کے امیدوار رسول بخش جاکھرو 28 ہزار 899 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

اس کے علاوہ قومی اسمبلی کے انتخابات میں کچھ بڑے اپ سیٹ بھی ہوئے جن میں قومی سطح کے رہنماؤں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

Election 2024

انتخابات 2024

GENERAL ELECTION 2024

election 2024 results

KPK Election Results

Comments are closed on this story.

تبصرے

تبولا

Taboola ads will show in this div