Aaj News

اتوار, اپريل 14, 2024  
05 Shawwal 1445  

کاٹن کینڈی بچوں میں کینسر کا سبب بن سکتی ہے

بچوں میں مقبول گڑیا کے بالوں والی کینڈی پر بھارت میں پابندی عائد ہو چکی ہے
شائع 23 فروری 2024 03:15pm
Source: Times Of India
Source: Times Of India

بھارت کی مختلف ریاستوں میں کاٹن کینڈی کی فروخت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، بھارتی حکومت کی جانب سے کہنا تھا کہ اس کینڈی میں موجود کیمیکل کینسر کے بڑھنے کا سبب بن سکتا ہے۔

رواں ہفتے بھارتی ریاست تامل ناڈو نے بچوں کی پسندیدہ کاٹن کینڈی جو کہ بڈی کے بال یا گڑیا کے بال کے نام سے بھی جانی جاتی ہے پر اب اس مٹھائی نما کینڈی پر پابندی لگا دی ہے۔

حکومت کی جانب سے اس کینڈی کا لیب ٹیسٹ کرایا گیا تھا، جس میں اس بات کی تصدیق ہوئی کہ اس میں کیمیکل ’روڈامین‘ موجود ہے، جو کہ کینسر کے بڑھنے کا باعث بن سکتا ہے۔

دوسری جانب چنئی کے فوڈ سیفٹی کے افسر پی ستیش کمار نے بھارتی میڈیا سے بات چیت میں بتایا کہ کاٹن کینڈی میں موجود مواد کینسر کا باعث بن سکتا ہے اور جسم کے دیگر اعضاء پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

ستیش کمار کی ٹیم کی جانب سے ساحل سمندر پر آپریشن بھی کیا گیا تھا، جس میں یہ انکشاف بھی ہوا کہ شہر میں فروخت ہونے والی مٹھائی/ کینڈی عام دکاندار بیچ رہے تھے، جبکہ رجسٹرڈ فیکٹریز نہیں بیچ رہی تھیں۔

عام طور پر یہ کمیکل ’روڈامین‘ ٹیکسٹائل، کاسمیٹکس اور سیاہی کو رنگنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، یہ کیمیکل شوخ گلابی رنگ کی وجہ سے مقبول ہے۔

یورپ اور امریکی ریاست کیلی فارنیا میں اس کیمیکل کو کھانے میں استعمال ہونے والے رنگ کے طور پر استعمال کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، کیونکہ یہ کینسر کے خطرے میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔

تامل ناڈو کے وزیر صحت ما سبرامنیم کے مطابق کھانے کی پیکنگ، درآمد، فروخت یا شادیوں اور دیگر عوامی تقریبات میں ’روڈ امین بی‘ پر مشتمل کھانا پیش کرنا فوڈ سیفٹی اینڈ سیفٹی ایکٹ 2006 کے تحت قابل سزا ہوگا۔

حیرت انگیز طور پر جس کینڈی پر بھارت کی مختلف ریاستوں میں پابندی عائد ہے، وہیں پاکستان میں یہ رنگ کھانوں کے رنگوں اور کینڈیز میں استعمال ہو رہا ہے۔

صحافی اور فوڈ سیفٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے، جہاں یہ رنگ انڈسٹریز، ٹیکسٹائل میں استعمال ہونے کے ساتھ ساتھ کھانوں میں بھی استعمال ہو رہا ہے۔

دوسری جانب جلیبیوں میں بھی اسی رنگ کو استعمال کیا جاتا ہے، مٹھائیوں اور مصالحہ جات جیسے کہ ہلدی اور مرچوں میں بھی اس رنگ کو شامل کیا جاتا ہے، ماہرین کے مطابق ہمارے کھانے پینے کی بہت سے اشیاء میں یہ رنگ استعمال ہو رہا ہے۔

مرچوں کی رنگت سے متعلق ماہرین نے انکشاف کیا کہ ہمارے یہاں مرچوں کی رنگت اتنی سرخ نہیں ہوتی ہے، اسے خوشنما بنانے کے لیے اس میں کیمیکل روڈ امین بی ڈالا جاتا ہے، جبکہ یہ رنگ گردوں اور جگر کو نقصان پہنچانے کا باعث بن سکتے ہیں، بڑھتے بڑھتے کینسر کا باعث بن سکتے ہیں۔

Cancer

children

industries

Pakistan Ordnance Factories (POF

cotton candy

Comments are closed on this story.

تبصرے

تبولا

Taboola ads will show in this div