Aaj News

بدھ, اپريل 17, 2024  
08 Shawwal 1445  

مکئی نے پاکستان کی بڑی برآمدات میں جگہ بنالی

چاول کی بھی بہتر کارکردگی، عالمی حالات نے مواقع پیدا کیے، اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار
شائع 28 فروری 2024 11:35am

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بتایا ہے کہ ٹیکسٹائل مصنوعات اور چاول کے ساتھ ساتھ اب مکئی بھی سب سے بڑی پاکستانی برآمدات میں شامل ہے۔

اسٹیٹ بینک کی ڈیٹا بیس کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 6 ماہ کے دوران مکئی کی برآمد سرجری کے آلات اور چمڑے کی مصنوعات جیسی روایتی برآمدات سے بڑھ گئی ہیں۔ اب یہ صرف تانبے اور اتھانول کی برآمد سے پیچھے ہیں۔

ماہانہ بنیاد پر جاری کیے جانے والے اعداد و شمار کے مطابق چاول کے بعد اب مکئی فوڈ کیٹیگری میں سب سے بڑی پاکستانی برآمد ہے۔

مکئی نے پھلوں، سبزیوں، مشروبات اور گوشت کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ملکی تاریخ میں پہلی بار مکئی کی برآمدات نے ایک کروڑ 20 لاکھ ڈالر کا ہدف پار کیا ہے۔ پانچ سال قبل مکئی کی برآمدات 10 لاکھ ڈالر سے کم تھیں۔

مکئی کی برآمدات اب ٹیکسٹائل سے ہٹ کر تین بڑی برآمدات میں شامل ہیں۔ یہ کامیابی خوش کن بھی ہے اور پریشان کن بھی۔ خوش کن اس لیے کہ مکئی کی برآمدات اپنے طور پر بڑھی ہیں، حکومت نے کوئی کردار ادا نہیں کیا۔

یہ کامیابی پریشان کن اس لیے ہے کہ ٹیکسٹائل سیکٹر سے ہٹ کر برآمدات اتنی کم ہیں کہ محض 30 کروڑ ڈالر سالانہ کا ہدف پار کرنا بھی قابلِ ذکر ٹھہرا ہے۔

رواں مالی سال کے دوران پاکستان چاول اور مکئی کی برآمد سے اضافہ ڈیڑھ ارب ڈالر کمائے گا۔ اس سے گندم کی درآمد کا متوازن بنانے میں مدد ملے گی۔

اگر معاملات یہی رہے تو رواں مالی سال میں پہلی بار ایسا ہوگا کہ چاول، مکئی اور گنے سے تیار شدہ مصنوعات (گُڑ، ایتھانول وغیرہ) سے ہونے والی آمدن گندم اور کپاس کے مجموعی درآمدی بل سے زیادہ ہوجائے گی۔

یہ صورتِ حال ان تمام ماہرین کے لیے دلچسپ ہوگی جو فصلوں کے پیٹرن کو گندم اور کپاس سے ہٹاکر چاول، گنے اور مکئی کے پیٹرن میں تبدیل کرنے پر واویلا مچاتے رہے ہیں۔

چاول اور مکئی کی برآمد میں اضافہ چند مواقع پیدا ہونے سے ممکن ہوسکا ہے۔ گزشتہ برس بھارت نے چاول برآمد کرنے پر پابندی عائد کی تھی۔ اس کے نتیجے میں پاکستانی چاول کی برآمدات عشرے کی بلند ترین سطح پر رہیں۔

سویا بین کی درآمد پر پابندی نے بھی مکئی کی برآمدات کو بڑھاوا دیا ہے۔ حالات بدلنے سے اگلے مالی سال میں چاول اور مکئی کی برآمد کا گراف گر بھی سکتا ہے۔

حکومت کی پالیسی کے نتیجے میں پولٹری فیڈ انڈسٹری کی طرف سے طلب میں واضح کمی کے باوجود مکئی اگانے والوں نے بھی مشکلات کا رونا نہیں رویا۔ جب مقامی طلب گھٹ گئی تو کارن پروسیسرز نے خود کو بین الاقوامی مسابقت سے دوچار پایا۔ انہیں حکومت کی طرف سے کوئی رعایت ملی نہ مالی مدد ۔

دیگر صنعتوں کی طرح حالات کا رونا رونے کے بجائے مکئی اگانے والوں اور پروسیسنگ کرنے والوں نے عالمی معیارات اپناکر حالات بہتر بنائے۔ پاکستانی پیداوار کی ملائیشیا، ویتنام، سری لنکا اور دیگر ممالک میں طلب موجود ہے۔

بیشتر مبصرین کہتے ہیں کہ غیر روایتی کیٹیگری میں پاکستانی برآمدات میں کمی توانائی کے بحران، ملکی کرنسی کی گرتی ہوئی قدر اور حکومتی مداخلت کے باعث ہے۔ ڈیری سے پولٹری اور گوشت تک بیشتر برآمدات کی کمی کا بنیادی سبب عالمی معیارات نہ اپنانا اور ویلیو چین کو نہ سمھجھنا ہے۔

مقامی سرمایہ کاری کی کمی بھی ایک اہم عامل ہے اور ملٹی نیشنل کلائنٹس کے لیے ایڈوائزری کردار ادا کرنے سے بھی اجتناب برتا جاتا رہا ہے۔ کارپوریٹ سیکٹر بھی اس حوالے سے اپنے حصے کا کام کرنے سے قاصر رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہمارا کارپوریٹ سیکٹر ملکی مارکیٹ پر زیادہ توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ معاشی پالیسی کی کمزوری کے ساتھ ساتھ برآمدات میں کارپوریٹ سیکٹر کی عدم دلچسپی بھی نمایاں ہے۔

fruits

NONTEXTILE EXPORTS

FOOD CATEGORY

INDIAN BAN ON RICE

Comments are closed on this story.

تبصرے

تبولا

Taboola ads will show in this div