Aaj News

جمعہ, اپريل 19, 2024  
10 Shawwal 1445  

انسان کی دُم مِٹنے کا راز جاننے کیلئے چوہوں پر تجربے

ڈھائی کروڑ سال انسانوں میں دُم کے معدوم ہونے کا عمل شروع ہوا، tailbone باقیات میں شامل
شائع 29 فروری 2024 05:05pm

محققین نے دعویٰ کیا ہے کہ انسان جیسا اس وقت ہے ویسا ہمیشہ نہیں تھا۔ ارتقائی مراحل میں انسان کی جسمانی ساخت میں غیر معمولی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ کروڑوں برس پہلے انسان (یعنی انسان نما حیوان) کی دُم بھی ہوا کرتی تھی۔ طویل ارتقائی عمل کے نتیجے میں دُم جھڑگئی۔

نیو یارک یونیورسٹی سے وابستہ ماہرِ جینیات اِتائی یانئی کہتے ہیں کہ قدیم دور کے بندروں سے پنپنے کے جدید، انسان نما بندر (ایپس) میں بھی دُم موجود تھی تاہم جب انہوں نے درختوں کو چھوڑ کر کھلے اور ہموار میدانوں میں ٹھکانے بنائے تو دُم کی کچھ خاص ضرورت باقی نہ رہی۔

ہارورڈ یونیورسٹی سے وابستہ ماہرِ جینیات بو شیا کا کہنا ہے کہ جانداروں میں دُم سمت کے تعین میں خاص مدد دیتی ہے۔ دُم کی مدد سے حیوانات اپنا دفاع بھی یقینی بناتے ہیں اور دُم ہی کے ذریعے وہ درختوں کے بعض حصوں تک رسائی بھی آسان بناتے ہیں۔

ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ جینیاتی ساخت میں رونما ہونے والی پیچیدگی یا خرابی کے نتیجے میں دُم کے غائب ہونے کا واقعہ کم و بیش ڈھائی کروڑ سال قبل کا ہوگا۔ ماہرین کا قیاس ہے کہ اِسی زمانے میں monkeys سے ابتدائی apes نے تشکیل پائی ہوگی۔ ماہرین کے خیال میں ہمارے قریب ترین آبا Homo sapiens کم و بیش 3 لاکھ سال قبل روئے ارض پر دکھائی دیے۔

انسانوں اور apes تک آنے والا سلسلہ نسب اس سلسلہ نسب سے الگ ہوا ہوگا جو عہدِ قدیم کے بندروں تک محیط تھا۔ اس فیملی میں baboons اور macaques شامل تھے۔

آج کے Hominoids میں انسان، دی گریٹ ایپس، چمپانزی، بونوبوز، گوریلا، اورنگیٹون اور ”کمتر ایپس“ یعنی گبونز شامل ہیں۔

ارتقائی امور کے ماہرین کہتے ہیں قریب ترین انسان نما بندر Proconsul بھی دُم سے محروم ہوچکا تھا۔

چوہوں پر کیے جانے والے تجربوں کی کامیابی سے ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ عہدِ قدیم کے انسانوں میں دُم کا غائب ہو جانا دراصل جینیاتی ساخت میں خرابی کا نتیجہ تھا۔

چوہوں پر کیے گئے تجربوں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جینیاتی ترتیب میں خلل پڑنے سے دُم یا تو غائب یا پھر بہت چھوٹی ہو جاتی ہے تاہم ایسی حالت میں چند ایک پیدائشی نقائص بھی پیدا ہوتے ہیں۔

جینیات کے ماہرین کہتے ہیں کہ انسانوں میں ریڈھ کی ہڈی کے سب سے نچلے حصے میں ایک ابھری ہوئی ہڑی ہوتی ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ کبھی انسانوں میں دُم ہوا کرتی تھی۔ اِس ہڈی کو آج بھی tailbone یعنی دُم کی ہڈی کہا جاتا ہے۔

دُم بہت سے جانداروں کو سمت کے تعین کے علاوہ توازن برقرار رکھنے میں بھی مدد دیتی ہے۔ مچلھی اور وھیل میں دُم سمت کے تعین کے لیے کارگر ثابت ہوتی ہے۔

Monkeys

EVOLUTION

APES

TAILBONE

GENETIC MUTATION

Comments are closed on this story.

تبصرے

تبولا

Taboola ads will show in this div