Aaj News

بدھ, مئ 22, 2024  
13 Dhul-Qadah 1445  

آئی ایم ایف قرض منظور ہوا تو این ایف سی پر نظر ثانی کریں گے، وزیر خزانہ

دورہ امریکہ پر بریفنگ، پچھلے برس کی نسبت عالمی رویہ تبدیل ہوا، مسعود خان
اپ ڈیٹ 21 اپريل 2024 08:16am
وزیرخزانہ محمداورنگزیب اور پاکستانی سفیر مسعود خان واشنگٹن کے پاکستانی سفارت خانے میں بریفنگ دے رہے ہیں
وزیرخزانہ محمداورنگزیب اور پاکستانی سفیر مسعود خان واشنگٹن کے پاکستانی سفارت خانے میں بریفنگ دے رہے ہیں

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف نے پاکستان کے لئے نیا قرض پروگرام منظور کیا تو صوبوں اور وفاق کے درمیان وسائل کے حوالے سے قائم قومی مالیاتی ایوارڈ این ایف سی پر نظر ثانی کی جائے گی۔

جبکہ واشنگٹن میں پاکستانی سفیر مسعود خان نے کہا ہے کہ گزشتہ برس کی نسبت عالمی اداروں کا پاکستان کے حوالے سے رویہ تبدیل ہوا ہے، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے متعلق جلد اچھی خبر ملے گی۔

وزیرخزانہ محمداورنگزیب اور پاکستانی سفیر مسعود خان نے پاکستانی وفد کے دورہ امریکہ کے حوالے سے واشنگٹن میں پریس بریفنگ دی۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف مشن مئی کے وسط تک پاکستان پہنچے گا، آئی ایم ایف کی شرائط پرفیصلہ مئی میں ہوگا۔

انہوں نے کہا خواہش ہوگی کہ جون کے آخر تک آئی ایم ایف سے اسٹاف لیول معاہدہ ہو جائے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ صوبائی مارکیٹوں کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہوگا۔

مسعودخان نے کہا کہ گزشتہ سال کی نسبت پاکستان کےبارےمیں رویوں میں تبدیلی آئی، آئی ایم ایف اورورلڈبینک سےمتعلق اچھی خبرآئیں گی، اہم سرمایہ کاروں نےپاکستان میں سرمایہ کاری کاعندیہ دیا جنہیں پاکستان میں ٹیکنالوجی کےشعبےمیں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی وفد کی دورے میں سعودی عرب،ترکیہ،چین کےحکام سےملاقاتیں ہوئیں۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ عالمی مالیاتی اداروں کےساتھ مثبت بات چیت ہوئی، معیشت کی بحالی سےمتعلق ہماری سمت بالکل واضح ہے، سرمایہ کاروں کےاعتمادکوبحال کرنےکیلئےاقدامات کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ مشکلات اورچیلنجز کےباوجود ہمیں آگےبڑھناہے، چینی مارکیٹوں تک رسائی حاصل کررہے ہیں۔

وزیرخزانہ نے کہا کہ اصلاحات سے ٹیکس نظام میں بہتری لائی جارہی ہے، اخراجات کوکم کرنےکیلئےٹھوس اقدامات کرنےکی ضرورت ہے، حالیہ دنوں میں پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ میں تیزی آئی۔

وزیرخزانہ کا کہنا تھا کہ معاشی چیلنجزسےنمٹنےکیلئےعالمی تعاون کی ضرورت ہے۔