Aaj News

بدھ, مئ 22, 2024  
13 Dhul-Qadah 1445  

سعودی شاہی خاندان کی خاتون لوئر دیر میں لاپتہ، نوجوان پر اغوا کا الزام

سعودی سفارت کار نے ایف آئی آر کٹوادی، حکام سراغ لگانے میں ناکام، شادی کی غیر مصدقہ اطلاعات
اپ ڈیٹ 24 اپريل 2024 05:27pm
علامتی تصویر
علامتی تصویر

سعودی عرب کی ایک خاتون جن کا تعلق شاہی خاندان سے بتایا جاتا ہے خیبر پختونخوا کے ضلع لوئر دیر میں ایک مقامی شخص کے ساتھ غائب ہوگئی ہیں۔ سعودی سفارت کار کی درخواست پراسلام آباد پولیس نے اغوا کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔

حنان عبداللہ البشیر کے مبینہ اغوا کے ملزم عبدالواحد پر تعزیراتِ پاکستان کی سیکشن 365 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ یہ سیکشن اغوا سے متعلق ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک ہائی پروفائل سعودی شخصیت کی گمشدگی کے باعث صوبے کے سینیر حکام شدید فکر مند ہیں کیونکہ سعودی عرب سے پاکستان کے بہت قریبی تعلقات ہیں، 20 لاکھ پاکستانی سعودی عرب میں کام کرتے ہیں۔ذرائع نے آج نیوز کو بتایا کہ غائب ہونے والی خاتون کا سعودی شاہی خاندان سے تعلق حکامِ بالا کے لیے باعثِ تشویش ہے۔

سعودی سفارت کار بدرالحریبی نے اسلام آباد کے مرگلہ پولیس اسٹیشن میں آن لائن ایف آئی آر رجسٹریشن سسٹم کے ذریعے ایف آئی آر درج کرائی ہے۔

ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ عبدالواحد شاہد خان نے سعودی شہری ہنان عبداللہ البشیر کو اسلام آباد کے علاقے ایف 8 سے اغوا کیا ہے۔ ایف آئی آر میں استدعا کی گئی ہے کہ ملزم کو گرفتار کرکے مغوی کو بازیاب کرایا جائے اور ملزم کو قرار واقعی سزا دلائی جائے۔

شکایت کنندہ بدرالحریبی نے عبدالواحد اور حنان دونوں کے پاسپورٹ نمبر بھی فراہم کیے ہیں۔

تاہم ایف آئی آر میں بظاہر مغوی کیلئے مذکر کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے اور نام بھی مردانہ ہے جب کہ پولیس حکام خاتون کے لاپتہ ہونے کی بات کر رہے ہیں۔

ضلع لوئر دیر کے قائمقام ڈی پی او رشید خان نے آج نیوز سے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہناہے کہ 37 سالہ سعودی خاتون سعودی عرب میں بینک میں آفیسر ہے اور لوئردیر کا 22 سالہ عبدالواحد خاتون کے ساتھ ڈرائیور تھا۔

ایک اور اعلی پولیس افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ سعودی خاتون عبدالاحد کے ساتھ دوستی بننے کے بعد پہلے بھی وزٹ ویزہ لگا کر لوئردیر آئی تھیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ والدین نے بیٹے کے اس عمل سے نا خوش تھے اوران کو سعودی خاتون واپس بھیجنے پر راضی کیا جس کے بعد خاتون واپس سعودی عرب چلی گئی۔ مبینہ طور پر اس کے بعد بھی رابط بحال رہا اور سعودی خاتون 25 رمضان کو پھر اپنے دوست کے گھر لوئر دیر کے علاقے شلغلم خاراڑی آئی جس کے بعد دونوں پر اسرار طور پر لاپتہ ہوگئے ہیں۔

وفاقی حکومت نے اس واقعہ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے انسپکٹر جنرل خیبر پختونخوا کو فوری طور پر خاتون کو باذیاب کرانے کا حکم دیدیا ہے۔

مقدمہ درج ہونے کے بعد اسلام آباد پولیس کے ایس ایس پی سی آئی اے برانچ اپنی نفری کے ساتھ گزشتہ دو روز سے لوئر دیر میں مقامی پولیس کے ساتھ نکل گئے تھے تاہم ناکامی کے بعد اسلام آباد پولیس واپس چلی گئی۔

کے پی پولیس کے ایک اعلی افسر نے آج نیوز کو بتایا کہ تمام تر کوششوں کے باوجود مغوی خاتون کوئی سراغ نہیں ملا ۔ سعودی خاتون دیر لوئر آئی تھی لیکن اب مقامی نوجوان اور سعودی خاتون لوئر دیر میں نہیں ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے مغوی خاتون کا تعلق سعودی عرب کے شاہی خاندان سے بتایا جاتا ہے۔ پولیس نے عبدالواحد کے گھر کے کئی افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

لوئر دیر خال کے عمائدین بھی سعودی خاتون کی تلاش میں سرگرداں مارے مارے پھیر رہے ہیں لیکن تا حال انہیں بھی کوئی سراغ نہ مل سکا۔

ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ لاپتہ ہونے والے سعودی خاتون کی لوئر دیر کے مقامی نوجوان سے شادی بھی کی ہے۔ لیکن سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہ ہوسکی۔

لاپتہ نوجوان کے خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ عبدالواحد پہلے سے شادی شدہ ہے اور ایک بیٹی کا باپ ہے۔

saudi woman missing in Pakistan

Saudi Pakistan relations