Aaj News

ہفتہ, جولائ 20, 2024  
13 Muharram 1446  

مبینہ مغوی سعودی خاتون کراچی سے بازیاب، ملزم زیرِ حراست

سعودی خاتون اس سے قبل بھی ملزم کے ہمراہ پاکستان آ چکی ہیں، ملزم کے اہلِ خانہ کا دعویٰ
شائع 25 اپريل 2024 08:02am

اسلام آباد سے مبینہ طور پر اغوا ہونے والی سعودی خاتون کو کراچی سے بازیاب کروا لیا گیا ہے، جبکہ مقدمے میں نامزد ملزم کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے ”بی بی سی“ کے مطابق پولیس نے خاتون کی بازیابی اور ملزم کی گرفتاری کا اعلان کیا ہے۔

اسلام آباد کے سیکٹر ایف 8 سے ایک سعودی خاتون کو مبینہ طور پر اغوا کیا تھا، جس کا مقدمہ اسلام آباد میں تعینات سعودی سفارتی عملے کے ایک رُکن بدر الحریبی کی مدعیت میں 18 اپریل کو تھانہ مارگلہ میں درج کروایا گیا۔ جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس مبینہ اغوا میں پاکستانی شہری ملوث ہیں۔

اسلام آباد پولیس کے مطابق ایف آئی آر کے اندراج کے بعد خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں اور منگل کی رات موبائل فونز کی لوکیشنز کی بنیاد پر سعودی خاتون اور ان کے مبینہ اغوا کار کو کراچی سے حراست میں لیا گیا جو کہ ایک پاکستانی شہری ہے۔

تفتیشی ٹیم میں شامل اسلام آباد پولیس کے ایک اہلکار نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مقدمے کی تفتیش کے دوران ملزم اور سعودی خاتون کے زیر استعمال موبائل فونز کی لوکیشنز ٹریس کی گئیں جو ہر چند گھنٹوں بعد تبدیل ہو رہی تھیں۔ لیکن گزشتہ دو روز کے دوران موبائل فون پر سعودی خاتون اور مبینہ اغوا کار کی لوکیشن صوبہ سندھ کے شہر لاڑکانہ اور پھر کراچی آرہی تھیں۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے اور قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد ایک خصوصی ٹیم کو سندھ بھیجا گیا جہاں ان دونوں افراد کو ٹریس کر لیا گیا۔

مذکورہ پولیس اہلکار نے بتایا کہ خاتون اور ملزم کراچی میں ایک گیسٹ ہاؤس میں ٹھہرے ہوئے تھے۔

اس مقدمے کی تفتیشی ٹیم کے سربراہ ایس پی، سی آئی اے رخسار مہدی نے بتایا کہ دونوں افراد کو منگل کی شام کراچی سے حراست میں لیا گیا اور وہاں قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد انہیں اسلام آباد پہنچا دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل اسلام آباد پولیس نے اس بات کی تردید کی تھی کہ کوئی بھی سعودی شہری پاکستان میں اغوا ہوا ہے۔

ملزم کا تعلق صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر لوئر دیر سے ہے اور بی بی سی کے مطابق ملزم کے اہلِ خانہ اور علاقہ عمائدین نے دعویٰ کیا ہے یہ کیس اغوا کا نہیں ہے۔

ضلع لوئر دیر کے پولیس افسر اور قائم مقام ڈی پی او رشید خان نے بی بی سی کو بتایا کہ اسلام آباد سے سی آئی اے کے پولیس افسر دو روز پہلے آئے تھے اور انہوں نے کہا تھا کہ لوئر دیر کے شہری کے ہمراہ ایک سعودی خاتون علاقے میں آئی ہوئی ہیں۔

نکاح نامے کی شرائط مبہم ہوئیں تو فائدہ دلہن کو ہوگا، سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

انہوں نے کہا کہ مقامی پولیس نے اُن کے ساتھ تعاون کیا، تاہم بعدازاں اسلام آباد پولیس نے ملزم کے چند رشتہ داروں کو تفتیش کی غرض سے حراست میں لیا جنہیں بعد میں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔

مقامی پولیس کے مطابق ملزم کی عمر لگ بھگ 22 سال ہے اور وہ پہلے سے شادی شدہ ہیں۔

بی بی سی کے مطابق مقامی افراد کا کہنا ہے کہ سعودی خاتون کی تلاش اور انہیں پولیس کے حوالے کرنے کے لیے مقامی سطح پر جرگے بھی منعقد ہوئے تاکہ یہ مسئلہ پرامن طریقے سے حل کیا جا سکے۔

اس جرگے کے ایک رکن محیب اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ مقامی سطح پر سیاسی رہنما اور ناظمین نے کوشش کی تھی کہ یہ مسئلہ بہتر انداز میں حل ہو جائے اور اس کے لیے وہ خاندان کے ساتھ رابطے میں تھے اور ان کی کوشش تھی کہ دونوں کو پولیس کے حوالے کر دیا جائے، تاہم بعدازاں معلوم ہوا کہ وہ یہاں سے کہیں اور چلے گئے ہیں۔

بی بی سی کے مطابق ملزم کے اہلِ خانہ نے دعویٰ کیا کہ نوجوان سعودی خاتون کے ساتھ سعودی عرب میں ڈرائیور تھا۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ سعودی خاتون اس سے قبل بھی ملزم کے ہمراہ پاکستان آ چکی ہیں۔ مذکورہ خاتون عید سے پہلے ماہ رمضان میں لوئر دیر آئی تھیں۔

اس کیس کی تفتیش سے منسلک لوئر دیر کی مقامی پولیس کے اہلکار نے بتایا کہ سعودی خاتون جب پہلی مرتبہ لوئر دیر آئی تھیں تو ملزم کے والد نے انہیں سمجھا بجھا کر واپس سعودیہ بھیج دیا تھا۔

islamabad police

saudi woman missing in Pakistan