مجتبیٰ خامنہ ای کی ویڈیو منظرِ عام پر، صحت سے متعلق قیاس آرائیاں برقرار

یہ واضح نہیں کہ ایرانی نیم سرکاری میڈیا نے یہ ویڈیو اس وقت کیوں جاری کی اور نہ ہی ریکارڈنگ کے وقت کی کوئی تفصیل فراہم کی۔
اپ ڈیٹ 08 اگست 2026 09:56pm

ایران کے نیم سرکاری میڈیا نے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی ایک ایسی ویڈیو جاری کی ہے جس کی تاریخ واضح نہیں، جس کے بعد ان کی صحت اور موجودہ صورتِ حال سے متعلق قیاس آرائیاں ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہیں۔

امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے ’مہر نیوز‘ نے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی ایک غیر مؤرخہ ویڈیو جاری کی ہے، جو مارچ میں سپریم لیڈر کا منصب سنبھالنے کے بعد ان کی پہلی ویڈیو ہے۔

مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے والد علی خامنہ ای کے ایران جنگ کے آغاز پر قتل کیے جانے کے بعد مارچ میں سپریم لیڈر کا منصب سنبھالا تھا، تاہم وہ اس کے بعد سے اب تک عوامی سطح پر منظرِ عام پر نہیں آئے اور ان کے پیغامات بھی سرکاری میڈیا کے ذریعے ہی جاری کیے جاتے رہے ہیں۔

جاری کی گئی ویڈیو میں مجتبیٰ خامنہ ای طلبہ یا کچھ لوگوں کو درس دیتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ تاہم ایرانی میڈیا نے ویڈیو کی ریکارڈنگ کے وقت سے متعلق کوئی تفصیل فراہم نہیں کی۔

ویڈیو کے مناظر سے بظاہر اندازہ ہوتا ہے کہ یہ جنگ شروع ہونے سے پہلے ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم اس کی حتمی تاریخ یا مقام کے بارے میں کوئی معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔

یہ بھی واضح نہیں کہ ایرانی نیم سرکاری میڈیا نے یہ ویڈیو اس وقت کیوں جاری کی ہے۔ تاہم ان کی طویل عرصے سے منظرِ عام سے غیر حاضری کے باعث ویڈیو کے اجرا کے بعد ان کی موجودہ جگہ اور صحت سے متعلق قیاس آرائیاں برقرار ہیں۔

ویڈیو میں ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے ’مہر نیوز‘ کا لوگو بھی موجود ہے، تاہم ویڈیو کو اب تک دیگر ایرانی ذرائع ابلاغ نے بڑے پیمانے پر نشر نہیں کیا۔

یاد رہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کو 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ہونے والے ایک فضائی حملے کے دوران زخمی ہوئے تھے، تاہم اس حملے میں ان کے والد، ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای خاندان کے دیگر افراد کے ہمراہ شہید ہوگئے تھے۔

امریکا و اسرائیل کی بمباری کے ابتدائی دنوں میں مجتبیٰ خامنہ ای کے پاؤں میں فریکچر اور چہرے پر زخم آئے تھے، تاہم انھیں محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا۔

حالیہ جاری کی گئی ویڈیو میں مجتبیٰ خامنہ ای کے جسم پر کسی چوٹ کے واضح آثار دکھائی نہیں دیتے، تاہم ویڈیو کی تاریخ سامنے نہ آنے کے باعث ان کی موجودہ صحت کے بارے میں حتمی رائے قائم نہیں کی جا سکتی۔