Aaj News

بدھ, جون 12, 2024  
05 Dhul-Hijjah 1445  

کال سینٹر میں طالبعلم کی موت کا معمہ حل، دوست نے سارا ماجرا سنا دیا

فائرنگ سے نوجوان کی ہلاکت کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج
اپ ڈیٹ 18 مئ 2024 08:34pm
فوٹو۔۔۔فائل
فوٹو۔۔۔فائل

کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں کال سینٹر میں گزشتہ رات فائرنگ سے نوجوان کی ہلاکت کا معاملہ حل کرلیا، نوجوان کے دوست نے اہم انکشافات کیے ہیں، جبکہ واقعے کا مقدمہ والد محمود علی کی مدعیت میں درج کرلیا گیا ہے۔

گزشتہ رات کال سینٹر میں میٹرک کا طالبعلم پر اسرار گولی لگنے سے جاں بحق ہوگیا۔ سولہ سالہ عبداللہ میٹرک کی تعلیم کے ساتھ لیاقت آباد کے کال سینٹر میں پارٹ ٹائم ملازمت کرتا تھا۔

عبداللہ کی لاش دیکھ کر کال سینٹر کی ملازمہ نے دیگر افراد کو اطلاع کی۔ خاتون ملازمہ کے مطابق وہ بالائی منزل پر صفائی کرنے آئی توعبداللہ کو مردہ حالت میں پایا۔

مقتول کے دوست علی نے آج نیوز کو بتایا کہ عبداللہ نے میٹرک کا امتحان اس کے ساتھ دیا تھا۔

مقتول کے ماموں نعیم نے بتایا ’لاش صوفے کے نیچے، پستول ٹیبل پر رکھا تھا‘۔

واقعہ قتل ہے یا خود کشی، پولیس ابتدائی طور پر تو کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی۔ پولیس کا کہنا تھاکہ لڑکے کو کسی نے مارا یہ بات کہنا قبل از وقت ہوگا۔

پولیس نے نائن ایم ایم پستول اور گولی کا خول تحویل میں لیا، کال سینٹر کے مالک حارث اور دیگر دو ساتھیوں کو بھی شامل تفتیش کرلیا گیا۔

دوران تفتیش جب سی سی ٹی فوٹیج دیکھی گئی تو اس کے بعد نئے انکشافات سامنے آئے۔

فوٹیج میں پایا گیا کہ جاں بحق نوجوان کال سینٹر میں اپنے دوست کے ہمراہ داخل ہوا، فوٹیج کے مطابق مقتول عبداللہ دوست کے ہمراہ کال سینٹر میں جانے کے لیے پیدل گلی میں آیا، کچھ دیر کے بعد مقتول عبداللہ کے دوست کو کال سینٹر سے باہر نکلتے دیکھا گیا۔

جس کے بعد پولیس نے مقتول نوجوان کے دوست کو حراست میں لے لیا۔

پولیس نے بتایا کہ مبینہ ملزم کے ابتدائی بیان کے مطابق وہ پستول سے ویڈیو بنا رہے تھے کہ ویڈیو بناتے ہوئے اچانک گولی چل گئی۔

پولیس حکام کے مطابق جائے وقوع سے ملنے والا پستول کال سینٹر کے مالک کا ہے، جو کال سینٹر میں موجود ٹیبل کی دراز میں رکھا رہتا تھا۔

پولیس کے مطابق مقتول دوست کے ہمراہ کال سینٹر میں آیا، پسٹل نکال کر ویڈیو بنانے کے دوران گولی چل گئی۔

ایس ایس پی سینٹرل ذیشان صدیقی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ کل لیاقت آباد میں بچے کا قتل ہواتھا، عبداللہ کال سینٹر میں کام کرتا تھا، مقتول کی لاش کی اطلاع ملی تھی اور پاس پسٹل پڑا ملا تھا۔

ذیشان صدیقی نے کہا کہ اس کیس کا پتہ نہیں چل رہا تھا، اس لئے ہم نےاسپشل ٹیم بنائی، اس کے ساتھ سرفراز نام کا لڑکا کام کرتا تھا، اسے حراست میں لیا، لڑکے نے بتایا مالک کا پسٹل دفتر میں موجود تھا، پہلےعبداللہ نے ویڈیو بنائی، پھر جب سرفراز ویڈیو بنارہا تھا تو پستول سے گولی چل گئی۔

ایس ایس پی سینٹرل نے بتایا کہ کال سینٹر کے مالک کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔

karachi

Murder

Suicide