Aaj News

ہفتہ, جون 22, 2024  
15 Dhul-Hijjah 1445  

مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں بجٹ کا 64 فیصد قرضے ادا کرنے پر خرچ ہوا

سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لیے مختص فنڈز کا 15 فیصد خرچ ہوسکا، مجموعی آمدن میں اضافہ ہوا، مالیاتی خسارہ بڑھ گیا
شائع 27 مئ 2024 01:50pm

وزارتِ خزانہ نے رواں مالی سال کے پہلے 6 ماہ کے اعداد و شمار جاری کردیے۔ دستاویز کے مطابق قرض کی ادائیگی پر بجٹ کا 64 فیصد خرچ ہوا۔ سود کی ادائیگی پر 402 ارب روپے خرچ ہوئے۔

قرض کی ادائیگی پر اخراجات بڑھنے کا بنیادی سبب بلند شرحِ سود ہے۔ گزشتہ مالی سال کے پہلے 6 ماہ کے دوران سود کی ادائیگی پر 260 ارب روپے خرچ ہوئے تھے۔

گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں رواں مالی سال کی اس مدت کے دوران قرضوں کی کی ادائیگی پر 65 فیصد زائد رقم ادا کی گئی۔

رواں مالی سال میں قرض اور سود کی ادائیگی کے لیے 730 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ قرضوں اور سود کی ادائیگی پر بجٹ کا 58 فیصد مختص ہے۔ مقامی اور بین الاقوامی قرضوں کا 80 فیصد سود کی ادائیگی پر خرچ ہوا ہے۔

رواں مالی سال کے پہلے 6 ماہ کے دوران جاری اخراجات کا 65.3 فیصد سود دینے پر خرچ ہوا۔ مقامی قرضوں کی ادائیگی پر 370 ارب 20 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔ بیرونی قرضوں کی ادائیگی پر 502 ارب روپے خرچ ہوئے۔

ترقیاتی پروگرام کے لیے مختص 950 ارب روپوں میں سے صرف 158 ارب روپے خرچ ہوئے۔ حکومت کو مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں ترقیاتی پروگرام کے لیے مختص فنڈز کا 50 فیصد خرچ کرنا ہوتا ہے۔

وفاقی حکومت کا مالی خسارہ 270 ارب روپے یا جی ڈی پی کے 2.5 فیصد کے برابر ہوگیا۔ گزشتہ مالی سال کے پہلے 6 میں مالی خسارہ 178 ارب روپے یا جی ڈی پی کا 2.1 فیصد تھا۔

صوبوں کا کیش سرپلس 289 ارب روپے رہا جو گزشتہ سال 101 ارب روپے تھا۔ وفاقی حکومت کا مجموعی خسارہ جی ڈی پی کا 2.3 فیصد رہا۔ وفاقی حکومت کا مجموعی خسارہ گزشتہ سال اسی عرصے میں 2 فیصد تھا۔ مالی خسارے کا 77 فیصد مقامی ذرائع سے پورا کیا گیا۔

جولائی سے دسمبر 2023 کے دوران وصولیوں میں 63 فیصد اضافہ ہوا۔ ٹیکس سے آمدن میں 30 فیصد اور نان ٹیکس آمدن میں 117 فیصد اضافہ ہوا۔

رواں مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں پاکستان کی مجموعی آمدن 4 کھرب روپے سے زیادہ رہی۔ پاکستان کی مجموعی آمدن گزشتہ سال 2.5 کھرب روپے تھی۔

رواں مالی سال کے پہلے 6 ماہ کے دوران پرائمری سرپلس 1.8 کھرب روپے رہا۔ رواں مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں ایف بی آر کی آمدن 30 فیصد اضافے سے 4.5 کھرب روپے رہی۔

نان ٹیکس آمدن 66.8 فیصد سے زیادہ بڑھی جو گزشتہ سال اسی عرصے میں ہونے والی آمدن سے 117 فیصد زیادہ ہے۔

سول حکومت اور دفاعی امور کے لیے مختص بجٹ کا 42 فیصد خرچ ہوا۔

BUDGET FIGURES

EVALUATION OF SIX MONTHS

UNUTILIZED FUNDS

FISCAL DEFICIT INCREASES