ہتکِ عزت کیس کا فیصلہ: گلوکارہ میشا شفیع پر 50 لاکھ روپے ہرجانہ عائد
لاہور کی عدالت نے 8 سال بعد گلوکار علی ظفر کی جانب سے دائر ہتکِ عزت کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے گلوکارہ میشا شفیع پر 50 لاکھ روپے ہرجانہ عائد کر دیا ہے۔
لاہور کی سیشن کورٹ نے منگل کے روز گلوکار علی ظفر کے ہتکِ عزت کے مقدمے میں فیصلہ سناتے ہوئے گلوکارہ میشا شفیع پر 50 لاکھ روپے ہرجانہ عائد کر دیا ہے۔ یہ مقدمہ میشا شفیع کی جانب سے عائد کیے گئے ہراسانی کے الزامات کے تناظر میں دائر کیا گیا تھا۔
اس کیس کی سماعت 8 سال تک جاری رہی اور مختصر فیصلہ ایڈیشنل سیشن جج آصف حیات نے سنایا۔ یہ پاکستانی کی تاریخ کے ہائی پروفائل کیسز میں سے ایک تھا جسے شوبز انڈسٹری اور قانونی حلقوں میں خاصی توجہ حاصل ہوئی۔
میشا شفیع نے 2018 میں علی ظفر پر ایک سے زائد بار جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کیے تھے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ علی ظفر نے ایک سے زائد مرتبہ جنسی ہراسانی کا نشانہ بنایا۔ میشا شفیع کا کہنا تھا کہ یہ واقعات ایک ایسے وقت میں پیش آئے جب وہ دونوں بطور ساتھی فنکار کام کر رہے تھے۔
یہ الزامات سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ (اس وقت کے ٹوئٹر) پر ایک سلسلہ وار پیغامات کی صورت میں شیئر کیے گئے تھے، جنہیں علی ظفر نے سختی سے مسترد کیا تھا۔
یہ معاملہ سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیلنے کے بعد علی ظفر کی جانب سے میشا شفیع کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ دائر کیا گیا۔
علی ظفر نے 2018 میں دائر کیے گئے اس دعوے میں مؤقف اختیار کیا کہ میشا شفیع کے جنسی ہراسانی کے الزامات سے ان کی عوامی ساکھ متاثر ہوئی جبکہ ان کے اہل خانہ کو بھی ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔
درخواست میں عدالت سے میشا شفیع کو غیر مشروط معافی اور ایک ارب روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دینے کی استدعا کی گئی تھی۔
کیس کی سماعت کے دوران مجموعی طور پر 9 ججز کا تبادلہ ہوا جب کہ 284 پیشیاں ہوئیں، جس کے بعد عدالت نے بالاخر منگل کے روز اس کیس کا فیصلہ سنا دیا ہے۔
















