سندھ کرمنل ترمیمی بل اکثریت رائے سے منظور

شائع 16 جنوری 2016 04:19am

کراچی:سندھ کرمنل پراسیکیوشن سروس ترمیمی بل دو ہزار پندرہ سندھ اسمبلی میں اکثریت رائے سے منظور کر لیا گیا۔ ایم کیوایم سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں نے شدید احتجاج کیا ، بل کے مطابق سندھ حکومت انسداد دہشت گردی سمیت کسی بھی عدالت میں زیر سماعت مقدمات ختم کرسکتی ہے۔

سندھ کرمنل پراسیکیوشن سروس ترمیمی بل دو ہزار پندرہ ، صوبائی وزیر پارلیمانی امور کی جانب سے ایوان میں پیش کیا گیا جسے اپوزیشن کے شدید احتجاج کے باوجود کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا ۔

بل کے متن کے مطابق پراسیکیوٹر جنرل یا پبلک پراسیکیوٹر کسی مقدمے کو ختم کرنے سے متعلق اپنی رپورٹ عدالت میں جمع کرائے گا ، مقدمے کے خاتمے کے لیے عدالت کی اجازت ضروری ہوگی ۔

حکومت کو یہ اختیار بھی حاصل ہوگا کہ جس مقدمے میں حکومت خود مدعی ہو اس میں ملزم کے خلاف الزامات واپس لے سکتی ہے، اپوزیشن اراکین نے حکومت کی جانب سے بل کی فوری اور خلاف ضابطہ منظوری کے خلاف شدید احتجاج کیا۔

حکومت کے بل پاس کرتے ہی اپوزیشن اراکین اسپیکر کے ڈائس کے سامنے جمع ہوگئے اور بل کی کاپیاں پھاڑ ڈالیں ، اپوزیشن نے آئندہ اجلاسوں میں بھی احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

Read Comments