سندھ اسمبلی سے اٹھنے والی احتجاجی لہرعوامی بے چینی کا سبب

شائع 16 جنوری 2016 05:39pm

کراچی:وزیراعلیٰ سندھ کے بے جااختیارات اوربلدیاتی اداروں کی بے اختیاری کے خلاف سندھ اسمبلی سے اٹھنے والی احتجاج کی لہرعوامی بے چینی میں اضافے کا سبب بن رہی ہے ،جبکہ سندھ کی دوبڑی جماعتوں ایم کیو ایم اورپیپلزپارٹی میں اداروں کے اختیارات کے معاملے پرٹھن گئی ہے۔

بلدیاتی اداروں کی تشکیل سے پہلے ہی سندھ میں اختلافات کی آگ بھڑک اٹھی ہے،وزیراعلیٰ سندھ کے بلدیاتی اختیارات میں کمی اور مئیرکوبااختیاربنانے کے لیے ایم کیو ایم نے سندھ اسمبلی میں تحاریک اوربلزجمع کرادیے۔ جبکہ ناکامی کی صورت میں تحریک چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

صوبائی حکومت اوربلدیاتی اداروں کے درمیان اختیارات کی رسہ کشی کئی برس پرانی ہے۔شہری ادارے ہوں یا صوبائی محکمے ،اختیارات کے تنازعہ میں شدت،ہربارشہریوں کے لیے ان گنت مسائل کا سبب بنی۔وزیراعلیٰ اورمئیرکے اختیارات پرحالیہ کشیدگی کبھی بوری سے بند گٹرتوکبھی لوڈ شیڈنگ اورپانی کے بحران پرجا منتج ہوتی ہے۔

عددی اکثریت کے بل بوتے پرایوانوں میں قانون سازی کے رجحان میں اضافہ عوامی بے چینی کا سبب ہے۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ سے بلدیاتی اختیارات کی واپسی اورمیئرکوبااختیاربنانے کی مہم جوئی اگرایوانوں میں ناکامی سے دوچارہوئی تو یہ ناکامی سندھ کے میدانوں میں کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ بنے گی۔

Read Comments