اپ ڈیٹ 27 مئ 2016 08:49am

پستے کے شوقین افراد کےلئے خاص خبر

سردی کے شروع ہوتے ہی لوگ گرم چیزیں کھانے کے شوقین ہو جاتے ہیں جن میں مونگ پھلی اور دیگر میوہ جات شامل ہیں۔  

ان کی مدد سے جسم میں حرارت بڑھتی ہے اور اندرونی بیماریوں سے محفوظ رہا جا سکتا ہے، جیسکہ کھانسی نزلہ زکام بخار۔ ان میوہ جات میں پستہ خاص اہمیت کا حامل ہے۔ پستے کاشمار مغزیات میں کیاجاتاہے،یہ جسم میں حرارت بھی پیداکرتاہے۔ اس کے علاوہ قوت حافظہ، دل، معدے اور دماغ کے لیے بھی بے حدمفید ہے۔ اسے روزانہ کھانے سے استعمال سے جسم ٹھوس اور بھاری ہوجاتاہے۔

مغزپستہ سردیوں کی کھانسی میں بھی مفید ہے اور پھیپھڑوں سے بلغم خارج کرکے انہیں صاف رکھتاہے۔ پستے میں بے پناہ کیلشیم، پوٹاشیم اور حیاتین کی مقدار موجودہے۔ ایک سو گرام پستے کی گری میں 594حرارے ہوتے ہیں۔ پستہ کااستعمال مختلف سویٹس کے ہم راہ صدیوں سے مستعمل ہے۔ حلوہ زردہ اور کھیرکا لازمی جزہے۔ نمکین بھنا ہوپستہ انتہائی لذت دارہوتاہے اور دیگر مغزیات کی طرح بھی استعمال کیاجاتاہے۔

جدید طبی تحقیق کے مطابق دن میں معمولی مقدار میں پستہ کھانے کی عادت انسان کو دل کی بیماری سے دوررکھ سکتی ہے۔ پستہ خون میں شامل ہو کرخون کے اندرکولیسٹرول کی مقدار کوکم کردیتا ہے۔ اس کے علاوہ خون میں شامل مضرعنصر لیوٹین کوبھی ختم کرنے میں مدد دیتاہے۔

تحقیق کے دوران ماہرین نے یہ بھی انکشاف کیاکہ پھل اور پتے دار ہری سبزیوں کھانے سے شریانوں میں جمے کولیسٹرول کوپگھلایاجاسکتاہے۔ پستہ عام خوراک کی طرح کھاناآسان بھی ہے اور ذائقے دارغذا بھی اگرایک آدمی مکھن تیل اورپنیر سے بھرپور غذاو¿ں کے بعد ہلکی غذاو¿ں کی طرف آناچاہتاہے تواسے پستہ کھانے سے آغاز کرنا چاہیے۔ پستہ کا روزانہ استعمال کینسر کے امراض سے بچاو¿ میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

ایک جدیدتحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ روزانہ مناسب مقدارمیں پستہ کھانے سے پھیپھڑوں اور دیگر کینسرزکاخطرہ کم ہوجاتاہے۔ کینسر پرکام کرنے والی ایک امریکی ایسوسی ایشن کے تحت کی جانے والی ریسرچ کے مطابق پستہ میں وٹامن ای کی ایک خاص قسم موجود ہوتی ہے جوکینسر کے خلاف انتہائی
مفید ہے۔

ماہرین کاکہناہے کہ پستہ میں موجود اس خاص جزو سے نہ صرف پھیپھڑوں بلکہ دیگر کئی اقسام کے کینسرسے لڑنے کے لیے مضبوط مدافعتی نظام حاصل کیاجاسکتاہے۔اس لئے پستہ بہت سی بیماریوں سے بچانے کا واحد حل ہے۔ روزانہ اسے کھانے بے حد مقید ہے۔

نوٹ: یہ مضمون محض معلومات عامہ کے لئے ہے

Read Comments