لاہور:اردو افسانہ نگاری کے بے تاج بادشاہ اور نچلے طبقے کے لوگوں کی ترجمانی کرنے والے سعادت حسن منٹو کی آج اکسٹھ ویں برسی منائی جارہی ہے۔
انیس سو بارہ میں لدھیانہ کے کشمیری گھرانے میں ایک بچے نے آنکھ کھولی جسے بچپن میں ٹامی کہا جاتا تھا،اسی سہمے ہوئے بچے کو دنیا آج سعادت حسن منٹو کے نام سے جانتی اور اردو افسانہ نگاری کا بادشاہ تسلیم کرتی ہے۔اردو افسانہ نگاری کا یہ ماہر تین بار فیل ہونے کے بعد میٹرک کرسکا تھا۔
سعادت حسن منٹو کا پہلا افسانہ تماشا تھا جو سانحہ جلیانوالہ باغ کے تناظر میں لکھا گیا تھا جبکہ اس کے بعد ان گنت اچھوتے موضوعات پر افسانوں نے اسے لازوال شہرت دی ،انہوں نے گھر گرہستی چلانے کے لیے ہندی فلموں کے سکرپٹ اور ڈرامے بھی لکھے۔
منٹو نے متعدد مقدمات کا سامنا بھی کیا اور اپنی قبر کا کتبہ خود لکھنے کے بعد انیس سو پچپن میں منوں مٹی تلے جا سوئے ، ان کے فن کو آج بھی خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے۔