اقتصادی راہداری منصوبہ: خصوصی کمیٹی کا اجلاس

شائع 18 جنوری 2016 11:39am

اسلام آباد:پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کیلئے قائم خصوصی کمیٹی کا اجلاس ہواجس میں سیکرٹری پلاننگ نے بتایا کہ صوبائی حکومتیں سی پیک کی پلاننگ میں شامل ہونگی، مغربی روٹ پروزیراعظم نے ابہام ختم کردیا ہے۔

پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کیلئے سینیٹ کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس سینیٹرتاج حیدرکی صدارت میں جاری ہے۔ سیکرٹری پلاننگ نے بتایا کہ صوبائی حکومتیں اپنے مفصل پلان ہمیں دیں،وزیراعظم کی ہدایت پرمغربی روٹ پندرہ جولائی دوہزاراٹھارہ تک مکمل کرنا ہے۔

وزارت منصوبہ بندی کے ساتھ صوبائی حکومتیں سی پیک کی پلاننگ میں شامل ہونگی۔ انہوں نے بتایا کہ ابھی منصوبے کا آغازہونا ہے پھرترجیحات طے کی جائیں گی۔ مغربی روٹ پروزیراعظم نے ابہام ختم کردیا ہے۔ سینیٹرعثمان سیف اللہ نے کہا کہ مغربی روٹ میں پشاور چارسدہ سمیت بڑی آبادی کوکیوں بائی پاس کیا جا رہا ہے۔

خیبرپختونخوا کی بڑی آبادی کوجان بوجھ کرنظراندازکیا جا رہا ہے ہم مطمئن نہیں ہیں۔ ہزارہ والا حصہ اختلاف میں شامل نہیں، سیکرٹری پلاننگ شاید ہمیں بچہ سمجھ کرچکردے رہے ہیں۔سینیٹرچوہدری تنویرنے کہا کہ ہزارہ بھی توخیبرپختونخوا کا حصہ ہے۔

 سینیٹر نہال ہاشمی نے سوال کیا ہزارہ نیا صوبہ ہے۔ چیئرمین این ایچ اے نے کہا کہ مغربی روٹ کیلئے برہان سے ڈیرہ اسماعیل والی سمت کا فیصلہ سیاسی تھا۔ سیاسی جماعتوں نے فیصلہ مشترکہ طورپرسات ماہ پہلے کیا تھا۔ متوازی ٹریک پرکام کررہے ہیں وزیراعلی خیبرپختونخواسے زمین کی خریداری میں مدد کی درخواست کی ہے۔ سینیٹرکبیرخان نے کہا کہ پشاوراورفاٹا کومغربی روٹ میں نظراندازکرنا زیادتی ہے۔

Read Comments