Subscribing is the best way to get our best stories immediately.
چارسدہ :وطن سے محبت اور اس کی خدمت کا جذبہ سر چڑھ کر بولنے لگے تو پھر ایسی ایسی لازوال قربانیاں جنم لیتی ہیں جنہیں زندہ قومیں کبھی فراموش نہیں کرسکتیں اور باچا خان یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر حامد حسین نے بھی ایسی ہی بے مثل قربانی پیش کی جسے کبھی بھلایا نہیں جاسکے گا۔پاکستانی قوم اپنے ایک اور بہادر بیٹے کو سلام پیش کرتی ہے۔ چونتیس سالہ سید حامد حسین کو شاید خطرے کا پہلے ہی سے اندازہ ہوگیا تھا، اسی لیے وہ آج پستول لے کر آئے تھے۔ یونیورسٹی میں فائرنگ کی آواز سن کر حامد حسین نے اپنی کلاس میں موجود طلبا کو باہر نکلنے سے منع کیا اور دہشت گردوں کے سامنے صرف ایک معمولی سا پستول لے کر ڈٹ گئے۔ اسسٹنٹ پروفیسر حامد حسین چاہتے تو اپنی جان بچانے کی کوشش کرسکتے تھے لیکن انہوں نے مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اسی دوران ایک دہشت گرد نے انہیں اپنا نشانہ بنا لیا۔ حامد حسین گولی کھا کر زمین پر گر پڑے لیکن قوم کا حوصلہ آسمانوں سے بلند کر گئے۔حامد حسین نے برطانیہ کی برسلز یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے تین سال قبل باچا خان یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کا عہدہ قبول کیا۔اسسٹنٹ پروفیسر حامد حسین کا تعلق صوابی کے غریب خاندان سے تھا۔ ا±ن کے والد کریانہ کی دکان چلاتے ہیں۔ حامد حسین نے پسماندگان میں اہلیہ اور دو بیٹوں کو سوگوار چھوڑا۔اسسٹنٹ پروفیسر حامد خان ، مردانہ وار وطن عزیز پر اپنی جان قربان کرگئے، ساتھ ہی قوم کو یہ پیغام بھی دے گئے کہ ظلم کتنا ہی طاقت ور کیوں نہ ہو، اس کے سامنے ڈٹ جانا چاہیے۔
چارسدہ :وطن سے محبت اور اس کی خدمت کا جذبہ سر چڑھ کر بولنے لگے تو پھر ایسی ایسی لازوال قربانیاں جنم لیتی ہیں جنہیں زندہ قومیں کبھی فراموش نہیں کرسکتیں اور باچا خان یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر حامد حسین نے بھی ایسی ہی بے مثل قربانی پیش کی جسے کبھی بھلایا نہیں جاسکے گا۔پاکستانی قوم اپنے ایک اور بہادر بیٹے کو سلام پیش کرتی ہے۔
چونتیس سالہ سید حامد حسین کو شاید خطرے کا پہلے ہی سے اندازہ ہوگیا تھا، اسی لیے وہ آج پستول لے کر آئے تھے۔ یونیورسٹی میں فائرنگ کی آواز سن کر حامد حسین نے اپنی کلاس میں موجود طلبا کو باہر نکلنے سے منع کیا اور دہشت گردوں کے سامنے صرف ایک معمولی سا پستول لے کر ڈٹ گئے۔
اسسٹنٹ پروفیسر حامد حسین چاہتے تو اپنی جان بچانے کی کوشش کرسکتے تھے لیکن انہوں نے مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اسی دوران ایک دہشت گرد نے انہیں اپنا نشانہ بنا لیا۔ حامد حسین گولی کھا کر زمین پر گر پڑے لیکن قوم کا حوصلہ آسمانوں سے بلند کر گئے۔
حامد حسین نے برطانیہ کی برسلز یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے تین سال قبل باچا خان یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کا عہدہ قبول کیا۔اسسٹنٹ پروفیسر حامد حسین کا تعلق صوابی کے غریب خاندان سے تھا۔ ا±ن کے والد کریانہ کی دکان چلاتے ہیں۔ حامد حسین نے پسماندگان میں اہلیہ اور دو بیٹوں کو سوگوار چھوڑا۔
اسسٹنٹ پروفیسر حامد خان ، مردانہ وار وطن عزیز پر اپنی جان قربان کرگئے، ساتھ ہی قوم کو یہ پیغام بھی دے گئے کہ ظلم کتنا ہی طاقت ور کیوں نہ ہو، اس کے سامنے ڈٹ جانا چاہیے۔