Subscribing is the best way to get our best stories immediately.
چارسدہ:باچا خان یو نیور سٹی چارسدہ حملے کی تحقیقاتی رپورٹ جاری، یو نیورسٹی حکام کوپانچ با رسکیورٹی بہتربنانے کی ہدایات جاری کی گئی تھیں اور حملے سے دو روز قبل بھی ڈی پی او چارسدہ نے یونیورسٹی کا دورہ کیا۔باچا خان یونیورسٹی چارسدہ پر ہونے والے دہشت گرد وں کے حملے کی تحقیقاتی رپورٹ جاری کر دی گئی۔ رپورٹ کے مطابق سیکورٹی خدشات ضلع چارسدہ کو نہیں بلکہ پشاور کے تعلیمی اداروں کو تھے، تاہم باچا خان یونیورسٹی کے حکام کو متعلقہ پولیس کی جانب سے پانچ مرتبہ سیکورٹی اقدامات کرنے کے لئے ہدایات جاری کی گئی تھیں جبکہ حملے سے دو روز قبل ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر چارسدہ از خود باچا خان یونیورسٹی سیکورٹی بہتر بنانے کے لئے گئے تھے۔ رپورٹ کی رو سے حملہ نو بج کربیس منٹ پر ہوا تھا جبکہ پندرہ منٹ بعد پولیس موقع پر پہنچ گئی۔ دہشت گردوں نے ہینڈ گرنیڈ پھینکے تاہم دھند کی وجہ سے سیکورٹی فورسز کو کاروائی میں مشکلات پیش آئیں۔ پاک فوج کے دستوں نے پہنچ کر چھتوں پر پوزیشن سنبھال لی جس کی وجہ سے دہشت گرد نچلی منزلوں کی طرف جانے پر مجبور ہو گئے جہاں پولیس نے انہیں ہلاک کر دیا۔ تحقیقاتی رپورٹ میں دہشت گردوں کی معاونت کرنے والے سات افراد کو پشاور اور چارسدہ سے گرفتار کیا گیا ہے جن کے ساتھ دہشت گرد ٹیلی فونک رابطے میں تھے۔
چارسدہ:باچا خان یو نیور سٹی چارسدہ حملے کی تحقیقاتی رپورٹ جاری، یو نیورسٹی حکام کوپانچ با رسکیورٹی بہتربنانے کی ہدایات جاری کی گئی تھیں اور حملے سے دو روز قبل بھی ڈی پی او چارسدہ نے یونیورسٹی کا دورہ کیا۔
باچا خان یونیورسٹی چارسدہ پر ہونے والے دہشت گرد وں کے حملے کی تحقیقاتی رپورٹ جاری کر دی گئی۔ رپورٹ کے مطابق سیکورٹی خدشات ضلع چارسدہ کو نہیں بلکہ پشاور کے تعلیمی اداروں کو تھے، تاہم باچا خان یونیورسٹی کے حکام کو متعلقہ پولیس کی جانب سے پانچ مرتبہ سیکورٹی اقدامات کرنے کے لئے ہدایات جاری کی گئی تھیں جبکہ حملے سے دو روز قبل ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر چارسدہ از خود باچا خان یونیورسٹی سیکورٹی بہتر بنانے کے لئے گئے تھے۔
رپورٹ کی رو سے حملہ نو بج کربیس منٹ پر ہوا تھا جبکہ پندرہ منٹ بعد پولیس موقع پر پہنچ گئی۔ دہشت گردوں نے ہینڈ گرنیڈ پھینکے تاہم دھند کی وجہ سے سیکورٹی فورسز کو کاروائی میں مشکلات پیش آئیں۔ پاک فوج کے دستوں نے پہنچ کر چھتوں پر پوزیشن سنبھال لی جس کی وجہ سے دہشت گرد نچلی منزلوں کی طرف جانے پر مجبور ہو گئے جہاں پولیس نے انہیں ہلاک کر دیا۔ تحقیقاتی رپورٹ میں دہشت گردوں کی معاونت کرنے والے سات افراد کو پشاور اور چارسدہ سے گرفتار کیا گیا ہے جن کے ساتھ دہشت گرد ٹیلی فونک رابطے میں تھے۔