باچا خان یونیورسٹی حملہ ،ذمے داری عمرنامی دہشتگرد نے قبول کی،عاصم باجوہ

شائع 23 جنوری 2016 04:12pm

راولپنڈی :ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ نے اپنی پریس کانفرنس میں یہ بھی بتایا کہ چارسدہ حملے کی ذمے داری افغانستان میں موجود کمانڈر عمر نامی دہشت گرد نے قبول کی، ان کا کہنا تھا کہ حملہ آور مسلسل افغانستان سے رابطے میں تھے۔ پاکستان نے کسی بھی مرحلے پر افغان حکومت کو ذمے دار قرار نہیں دیا۔

لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے کہا چارسدہ یونیورسٹی پر حملے میں ہلاک چاروں دہشت گردوں میں سے ایک امیر رحمان کی نادرا سے تصدیق ہوگئی ہے۔ اس کا تعلق جنوبی وزیرستان سے تھا۔انہوں نے بتایا کہ باقی تین حملہ آوروں کے بارے میں تفصیلات جمع کی جارہی ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا دہشت گرد کمانڈر عمر کا ڈپٹی ذاکر ہے جو چاروں دہشت گردوں کو افغانستان سے طورخم لایا۔ انہوں نے ایک پاکستانی صحافی اور کمانڈر عمر کے درمیان ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو بھی پیش کی جس میں عمر نے دہشت گردوں کے بارے میں بتایا اور حملے کی ذمے داری بھی قبول کی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے کہا افغان حکومت کو حملے کا کسی بھی مرحلے پر ذمے دار قرار نہیں دیا گیا، ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں سے نمٹنے کیلئے عوام بھی چوکس رہیں اور اپنے آس پاس ہونے والی غیرمعمولی سرگرمی سے سیکیورٹی سروسز کو آگاہ کریں۔

Read Comments