Subscribing is the best way to get our best stories immediately.
کراچی : قومی ائیرلائن پی آئی اے کی مجوزہ نجکاری کے خلاف ملک بھرمیں پی آئی اے کے ملازمین کا احتجاج ہوا۔ دو فروری سے مکمل بندش کی کال دی گئی۔ ایک ہفتہ قبل قومی ائیرلائنز کی نجکاری کی راہ ہموار کرنے کیلئے اس کے قانون میں ترمیم کرکے اسے کارپوریشن سے کمپنی بنادیا گیا تھا۔تین دہائیوں سے خسارے میں چلنے والی قومی ایرلائنز پی آئی اے کے نجکاری کی کوششیں بھی اتنی ہی پرانی ہیں۔ لیکن مختلف حکومتوں کی ان کاوشوں میں حائل ایک بڑی رکاوٹ ایک ہفتہ قبل اس وقت دور ہو گئی جب پی آئی اے کے قانون میں تبدیلی کر کے اسے کارپوریشن سے کمپنی بنا دیا گیا۔ سیکٹری ایوی ایشن نے واضح کیا کہ حکومت پی آئی اے کے چھبیس فیصد حصص کے بدلے اس کا انتظامی کنٹرول اسٹراٹیجک پارٹنرکودینا چاہتی ہے تاکہ اسے منافع بخش ادارہ بنایا جائے۔ اس وقت پی آئی اے کے اکیانوے فیصد حصص حکومت کے پاس اور نو فیصد نجی شئیرہولڈرز کی ملکیت ہیں۔اس فیصلے کے پیچھے ایک بڑی وجہ پی آئی اے کا ساڑھے تین ارب روپے کا ماہانہ خسارہ ہے جو تیل کی قیمت میں گراوٹ سے پہلے پانچ ارب روپے ماہانہ سے بھی زیادہ تھا۔تاہم ادارے کی لیبر یونینز اس فیصلے کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ آج ملک بھر میں پی آئی اے کی نجکاری کے خلاف مظاہرے ہوئے اور دو دن تک پی آئی اے کے دفاتر اور بکنگ آفس بند رکھنے کا اعلان کیا گیا۔ دو فروری سے غیرمعینہ بندش کی کال بھی دی جا چکی ہے۔ملازمین کا مطالبہ ہے کہ ترمیمی بل واپس لیا جائے، حکومت پی آئی اے کے حصص کی فروخت سے باز رہے، ملازمین کو پی آئی اے کی بحالی کا موقع دیا جائے اور موجودہ ایوی ایشن پالیسی پرنظرثانی کی جائے۔ لیکن آئی ایم ایف کے ساتھ خسارہ کم کرنے کے وعدے کے مطابق حکومت نے اپنے سامنے پی آئی اے کی نجکاری کیلئے جون دوہزار سولہ کی ڈیڈ لائن رکھی ہے۔ نجکاری کے حامیوں کا کہنا ہے کہ سیاسی مجبوری خواہ کچھ بھی ہوحکومت کا کام کاروبارچلانا نہیں بلکہ پالیسی وضح کرنا ہوتا ہے۔
کراچی : قومی ائیرلائن پی آئی اے کی مجوزہ نجکاری کے خلاف ملک بھرمیں پی آئی اے کے ملازمین کا احتجاج ہوا۔ دو فروری سے مکمل بندش کی کال دی گئی۔ ایک ہفتہ قبل قومی ائیرلائنز کی نجکاری کی راہ ہموار کرنے کیلئے اس کے قانون میں ترمیم کرکے اسے کارپوریشن سے کمپنی بنادیا گیا تھا۔
تین دہائیوں سے خسارے میں چلنے والی قومی ایرلائنز پی آئی اے کے نجکاری کی کوششیں بھی اتنی ہی پرانی ہیں۔ لیکن مختلف حکومتوں کی ان کاوشوں میں حائل ایک بڑی رکاوٹ ایک ہفتہ قبل اس وقت دور ہو گئی جب پی آئی اے کے قانون میں تبدیلی کر کے اسے کارپوریشن سے کمپنی بنا دیا گیا۔
سیکٹری ایوی ایشن نے واضح کیا کہ حکومت پی آئی اے کے چھبیس فیصد حصص کے بدلے اس کا انتظامی کنٹرول اسٹراٹیجک پارٹنرکودینا چاہتی ہے تاکہ اسے منافع بخش ادارہ بنایا جائے۔ اس وقت پی آئی اے کے اکیانوے فیصد حصص حکومت کے پاس اور نو فیصد نجی شئیرہولڈرز کی ملکیت ہیں۔
اس فیصلے کے پیچھے ایک بڑی وجہ پی آئی اے کا ساڑھے تین ارب روپے کا ماہانہ خسارہ ہے جو تیل کی قیمت میں گراوٹ سے پہلے پانچ ارب روپے ماہانہ سے بھی زیادہ تھا۔
تاہم ادارے کی لیبر یونینز اس فیصلے کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ آج ملک بھر میں پی آئی اے کی نجکاری کے خلاف مظاہرے ہوئے اور دو دن تک پی آئی اے کے دفاتر اور بکنگ آفس بند رکھنے کا اعلان کیا گیا۔ دو فروری سے غیرمعینہ بندش کی کال بھی دی جا چکی ہے۔
ملازمین کا مطالبہ ہے کہ ترمیمی بل واپس لیا جائے، حکومت پی آئی اے کے حصص کی فروخت سے باز رہے، ملازمین کو پی آئی اے کی بحالی کا موقع دیا جائے اور موجودہ ایوی ایشن پالیسی پرنظرثانی کی جائے۔ لیکن آئی ایم ایف کے ساتھ خسارہ کم کرنے کے وعدے کے مطابق حکومت نے اپنے سامنے پی آئی اے کی نجکاری کیلئے جون دوہزار سولہ کی ڈیڈ لائن رکھی ہے۔ نجکاری کے حامیوں کا کہنا ہے کہ سیاسی مجبوری خواہ کچھ بھی ہوحکومت کا کام کاروبارچلانا نہیں بلکہ پالیسی وضح کرنا ہوتا ہے۔