شائع 14 نومبر 2017 02:38pm

جیل یاترا کرنے والے بولی وڈ اداکار

بولی وڈ کا شمار دنیا کی دوسری بڑی فلم انڈسٹری میں ہوتا ہے اور بولی وڈ کی چمکتی دنیا میں اگر کوئی شخص شہرت حاصل کرلے تو پیسہ اس پر بارش کی طرح برسنے لگتا ہے لیکن اسہی فلم انڈسٹری کے بہت ایسے بہت سے سپر اسٹار ہیں جن پر نہ صرف ایف آئی آر یا پرچہ درج ہوچکا ہے بلکہ وہ جیل یاترا بھی کرچکے ہیں ۔ ذیل میں ایسے ہی اداکار بیان کیے گئے ہیں۔

فردین خان

فردین خان کا شمار بھی بولی وڈ کے نامور اداکاروں میں ہوتا ہے اور وہ انیس سو اٹھانوے میں بہترین اداکار کا ایوارڈ بھی حاصل کرچکے ہیں۔ تاہم وہ بھی ہیروئن خریدتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑے گئے تھے جس کی وجہ سے ان کو جیل میں جانا پڑا تھا۔

سنالی بیندرے

سنالی کے نام سے کون واقف نہیں ہے تاہم بدقسمتی سے ان کو بھی جیل یاترا کرنی پڑی تھی جب ایک مذہبی تنظیم کی جانب سے ان کیخلاف تھانے میں درخواست دائر کی گئی ۔

جان ابراہم

جان ابراہم کو بھی جیل یاترا کرنی پڑی ہے۔ ان پر تیز رفتاری کے دوران دو افراد کا ایکسیڈنٹ کرنے کا الزام دوہزار چھ میں لگایا گیا تھا۔

مونیکا بیدی

مونیکا بیدی پر انڈرورلڈ سے تعلقات کا الزام لگایا گیا تھا، ان کے انڈرورلڈ ڈان ابوسلیم سے تعلقات تھے اور دونوں کو پرتگال سے گرفتار کیا گیا تھا۔ تاہم دوہزار تیرہ میں جیل سے باہر آنے کےبعد انہوں نے دوبارہ پردے پر نظر آنا شروع کردیا تھا۔

سیف علی خان

شاید آپ واقف نہ ہوں کہ چھوٹے نواب سیف علی خان کو بھی جیل یاترا کرنی پڑے ہے، سیف اپنے اہلیہ کرینہ کپور اور ان کی بہن کرشمہ کے ہمراہ ایک ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے گئے تھے اور وہاں پر ان کا ایک لڑکے سے جھگڑا ہوگیا تھا جس کے دوران انہوں نے اس لڑکے کی ناک توڑ دی تھی اور عینی شاہد کی گواہی کے بعد سیف کو پولیس نے گرفتار کرلیا تھا۔

سنجے دت

سنجے دت کا کیس تو پورے بھارت میں مقبول ہوا تھا ان کو جنگی اسلحہ رکھنے پر حراست میں لیا گیا تھا۔ سنجے دت پر الزام تھا کہ انہوں نے ممبئی میں سیریل بلاسٹ کیلئے دھماکا خیز مواد اور اسلحہ دہشت گردوں کو فراہم کیا تھا۔

شینے اہوجا

شینے اہوجا کو گھر میں اپنی نوکرانی کو زیادتی نشانہ بنانے پر سات سال کیلئے جیل بھیج دیا گیا اور وہ جیل میں سزا کاٹ رہےہیں۔

سلمان خان

سلمان خان پر بھی نایاب پرندوں کو نشانہ بنانے کا الزام ہے جبکہ دوہزار دو میں ان کو ایکسیڈنٹ کے فوری بعد فرار ہونے پر پانچ سال کی سزا سنائی گئی تھی۔

Read Comments