ماہرہ خان کی فلم ورنہ پر پابندی کے خاتمے کی متضاد خبریں میڈیا میں گردش کرنا شروع ہوگئیں۔ پہلے میڈیا میں یہ خبریں گردش کررہی تھیں کہ مرکزی سنسر بورڈ نے فلم ورنہ کو نمائش کی اجازت دے دی ہے۔
تاہم اس اجازت کو مشروط قرار دیا جاسکتا ہے کیونکہ سنسر بورڈ کی طرف سے فلم کو نمائش کی اجازت متنازعہ مواد نکالنے کے بعد دی گئی ہے۔ اطلاعات ہیں کہ فلم کی ٹیم نے اس میں ایڈیٹنگ اور متنازعہ مواد ہٹانے کے سنسر بورڈ کے مطالبے کو رد کردیا ہے۔
دوسری جانب برٹش بورڈ آف فلم کلاسی فکیشن کے مطابق یہ عالمی سطح پر اپنی مقررہ تاریخ کو ہی نمائش کیلئے پیش کی جائیگی اور فلم کو بغیر کسی ایڈیٹنگ کے نمائش کی اجازت بھی دے دی گئی ہے۔
بی بی ایف سی کی جانب سے فلم ورنہ کو ففٹین ریٹنگ دی گئی ہے ، جس کے تحٹ پندرہ سال یا اس سے اوپر کی عمر کے افراد اس فلم کو ملاحظہ کرسکتے ہیں۔
پہلے پنجاب اور سندھ سنسر بورڈ نے فلم کو نمائش کی اجازت دے دی تھی تاہم مرکزی سنسر بورڈ کی جانب سے اس پر اعتراض اٹھادیئے گئے تھے، جس کے بعد اسکا لاہور میں پریمیئر بھی روک دیا گیا تھا۔
ادھر سوشل میڈیا پر ماہرہ کی فلم کی پابندی کے بعد سنسر بورڈ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ حتی کے بولی وڈ اسٹار دپیکا نے بھی اپنے ایک انٹرویو میں ماہرہ کی فلم ورنہ کے حق میں بیان دیا ہے۔