زرین خان کے ساتھ پبلک میں غیراخلاقی حرکت، کوئی مدد کو نہ آیا
بولی وڈ کی خوبرو اداکارہ زرین خان کا ڈیبو سلمان خان کے ہمراہ فلم 'ویر' میں ہوا، انہیں 'ہیٹ اسٹوری تھری' میں پاور پیکڈ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر بے حد سراہا بھی گیا۔ رپورٹ کے مطابق گذشتہ دنوں وہ اپنی نئی آنے والی فلم 'اکثر 2' کی پروموشن کے لئے دہلی میں موجود تھیں۔ جہاں فلم کی پروموشن کے دوران انہیں پبلک میں جسمانی ہراسگی کا سامنا کرنا پڑا۔ حیرانی کی بات تو یہ تھی کہ اس پورے واقعے کے دوران فلم کے ہیرو سمیت کوئی بھی ان کی مدد کو نہ پہنچا۔ اس واقعے کے بعد زرین خان نے اپنی فلم کی پوری ٹیم اور سیکیورٹی انتظامات سے دلبرداشتہ ہوکر اسی رات ممبئی واپس جانے کا فیصلہ کیا۔ زرین خان کے قریبی ذرائع نے اس حوالے سے بولی وڈ لائف سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ 'آخری وزٹ سے قبل سب چیزیں ٹھیک چل رہی تھیں، تقریباً وہ تمام اشتہاری مراحل جن میں ان کی موجودگی ضروری تھی ان سے نمٹنے کے بعد وہ صرف 15 منٹ کے لئے آخری تقریب میں پہنچیں، وہ یہ دیکھ کر بہت حیران تھیں کہ انتظامیہ نے اشتہاری تقریب میں ان کا مقررہ وقت سے کچھ زیادہ لے لیا تھا'۔ ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ 'جب فلم کی کاسٹ بیٹھی ہوئی ڈنر کررہی تھی تو زرین نے اپنا کام ختم کرنے اور وہاں سے جانے کا فیصلہ کیا تاہم جیسے ہی وہ پبلک کے درمیان پہنچیں تو تقریباً 40 سے 50 لوگوں نے ان کا گھیراؤ کرلیا۔ وہاں کسی قسم کی کوئی سیکیورٹی بھی موجود نہیں تھی، ہر شخص ان کے ساتھ تصویریں بنانے کے لئے اپنا کیمرہ زبردستی ان کے منہ کی جانب بڑھا رہا تھا۔ اسی دوران انہیں شدید نوعت کا سامنا کرنا پڑا'۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ 'اس پوری مشکل ترین صورتحال میں فلم کی ٹیم کا کوئی بھی میل ممبر ان کا ساتھ دینے نہ پہنچا، یہاں تک کہ کوئی مدد کے لئے آگے تک نہ بڑھا۔ حالات کنٹرول سے بالکل باہر ہوگئے تھے۔ تاہم انہوں نے اس مشکل صورتحال کا سامنا کرنے کے باوجود اپنے طے کردہ معاملات کو پورا کیا اور رات کو ممبئ کی فلائٹ سے روانگی کی'۔ اس افسوسناک واقعے کو مدنظر رکھتے ہوئے زرین خان کو اپنی پوری ٹیم اور ہیرو گوتم روڈ سے ناراض ہونے کا پورا حق ہے کیونکہ کوئی بھی مرد یا عورت اس طرح کے برتاؤ کا مستحق نہیں ہوتا۔