اسکولوں کو درپیش سیکورٹی خدشات عسکری و سول قیادت کی توجہ کا مرکز

شائع 27 جنوری 2016 04:44pm

اسلام آباد:ملک بھر میں اسکولوں کو درپیش سیکورٹی خدشات پاکستان کی عسکری اور سول قیادت کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔آج آرمی پبلک اور پاک بحریہ کے بھی تمام تعلیمی ادارے بند کردیئے گئے، جبکہ ملک کی تمام صوبائی حکومتیں درسگاہوں کی حفاظت کے لیے کوششوں میں مصروف ہیں۔

پرائیوٹ اسکولوں کی انتظامیہ کو بھی سیکورٹی کے خصوصی انتظامات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔سانحہ چارسدہ کے ایک ہفتے بعد درسگاہوں کا کھلنا اور بند ہونا اس خطرے کی نشاندہی کرتا ہے جو پاکستان کی تمام تر توجہ کو مرکز بنا ہوا ہے۔

ستائیس جنوری کو ملک بھر میں آرمی پبلک اسکول اور پاک بحریہ کے تمام تعلیمی ادارے اکتیس جنوری تک بند کردیئے گئے ہیں۔ کراچی میں گزشتہ رات فوج کے زیر انتظام چلنے والے اسکولوں کی انتظامیہ نے بچوں کے والدین کو بذریعہ ایس ایم ایس آگاہ کیا کہ وہ اپنے بچوں کو کل اسکول نہ بھیجیں۔

اس سے ایک روز قبل پنجاب میں بھی تمام اسکولوں میں غیرمعمولی طور پر چھٹیوں کا اعلان کیا گیا۔ادھرکراچی میں ڈائریکٹرکالجز نے تعلیمی اداروں کے پرنسپلز کو اپنی درسگاہوں کی حفاظت کے لیے سیکورٹی پلان مرتب کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ڈائریکٹرکالجز کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ تعلیمی اداروں کے اوقات کار روزانہ کی بنیاد پرتبدیل کئے جائیں۔

کالج پرنسپلز کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ طلبا، اساتذہ اور دیگر اسٹاف کی تعداد سے متعلقہ تھانے اورڈپٹی کمشنرکوبھی آگاہ رکھیں۔تعلیمی اداروں کوغیر متعلقہ افراد کے داخلے پر سختی سے پابندی اور چوکیداروں کی گیٹ پرموجودگی یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

پشاور میں بھی اسپیشل سیکریٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کی زیر صدارت اجلاس میں صوبہ بھر کے ای ڈی اوز اور اہم حکام نے شرکت کی، اجلاس میں سیکورٹی کی فراہمی کے لیے فنڈز کا مطالبہ کیا گیا۔سیکورٹی اداروں اور سول انتظامیہ کی ان کاوشوں کی چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے بھی تائید کرتے ہوئے کہا کہ اگر دھمکیاں مل رہی ہوں تو اسکول بند کئے بغیر کوئی چارہ نہیں۔

دوسری جانب بچوں کے والدین بھی سیکورٹی کے حوالے سے پریشان دکھائی دیتے ہیں۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اسکولوں کی سیکورٹی کے حوالے سے فول پروف انتظامات کئے جائیں۔

اکیس جنوری کو چارسدہ میں ہونے والے حملے میں اٹھارہ طلباء سمیت اکیس افراد شہید ہوئے تھے۔ جس کے بعد ملک بھرمیں اسکولوں کے سیکورٹی خدشات میں اضافہ کے پیش نظر سیکورٹی کے غیر معمولی اقدامات کئے جارہے ہیں۔

Read Comments