ٹرانسپرنسی رپورٹ: پاکستان میں کرپشن میں کمی

اپ ڈیٹ 28 جنوری 2016 04:52am

اسلام آباد:ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرپشن میں کمی آئی ہے اور پاکستان بہتری کی طرف گامزن ہے۔تاہم پاکستان میں کرپشن روکنے کے اداروں کے ساتھ کیا سلوک کیا جارہا ہیدرج ہے اس رپورٹ میں۔

یہ بات پاکستان کے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں کہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل دوہزارپندرہ کی کرپشن پرسپشن انڈیکس رپورٹ میں پاکستان کا نمبر ایک سو چھبیس سے ایک سو سترہ پر آگیا ہے۔ چیئرمین نیب قمرزمان چوہدری کا کہنا ہے کہ پاکستان کو بطور خاص سارک ممالک میں بہتر پوزیشن کا حامل قرار دیا گیا ہے۔چیئرمین نیب نے بتایا کہ قومی احتساب بیورو نے جو اقدامات اٹھائے، ان کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔

کرپشن میں پاکستان کا نام بہتری کی جانب گامزن ہونا تو خوش آئند قدم ہے لیکن بدقسمتی سے ملک میں کرپشن روکنے کے اداروں کے ساتھ ہونے والا سلوک باعث شرم ہے۔ اس کی واضح مثال سابق صدر آزاد کشمیرراجہ ذوالقرنین کے گھرپرنیب کی ٹیم کے چھاپے کے دوران پیش آئی، جہاں چھاپہ مارنے والے ڈپٹی ڈائریکٹرنیب کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

سابق صدر آزاد کشمیر راجہ ذوالقرنین کے بیٹے علی ذوالقرنین کو چند روزقبل رینٹل پاورکیس میں گرفتارکیا گیا تھا، جس کے بعد مزید کارروائی کے لیے ڈپٹی ڈائریکٹر نیب اصغر خان نے سابق صدر آزاد کشمیر کے گھر پر چھاپہ مارا جہاں ان کے ملازمین نے مبینہ طور پر تشدد کرکے انہیں زخمی کردیا۔

دوسری جانب کرپشن کے خلاف وفاقی اداروں کی کارروائی پرتوحکومت سندھ کواعتراض تھاہی، اب مختلف صوبائی محکموں میں ایک کھرب روپے سے زائد کی کرپشن کے خلاف تحریک بھی سندھ اسمبلی میں پیش نہیں کرنے دی گئی۔

کرپشن جیسے سلگتے مسئلہ پرایم کیو ایم کے محمد حسین نے سندھ اسمبلی میں تحریک التواء پیش کی، توحکومتی وزراء دفاع کے لیے ایک ہوگئے۔ صوبائی وزراء نے موقف دیا کہ آڈیٹرجنرل پاکستان کے تحفظات کوکرپشن قرارنہیں دیا جاسکتا۔

کرپشن کی اس دلدل میں پاکستان کا نام بہتری کی جانب بھلے ہی موثر قدم ہو لیکن کرپشن کی روک تھام کے لیے ملک میں موجود اداروں کو بھی بہتر ماحول فراہم کرنا ہوگا۔

Read Comments