فلم پدماوت میں مسلم حکمران علاوالدین خلجی کو وحشی دکھانے اور کردار کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے پر مورخوں نے تنقید کی ہے۔
فلم پدماوت ریلیز کردی گئی ہے اور بھارت بھر کے سنیماوں میں اسکی اسکریننگ ہورہی ہے۔ تاہم مورخوں کا کہنا ہے کہ فلم میں پدماوتی کا تو نہیں لیکن علاوالدین خلجی کا کردار توڑ مروڑ کر اور حقیقت سے ہٹ کر دکھایا گیا ہے۔
فلم میں رنویر سنگھ علاوالدین خلجی کا کردار نبھارہے ہیں۔ فلم میں علاوالدین کو ایک درندہ صفت بادشاہ کے طور پر دکھایا گیا ہے جو کہ راجپوت رانی پر مر مٹتا ہے اور اس کے لئے ایک ریاست پر حملہ کردیتا ہے۔
مورخ رانا صفوی کے مطابق خلجی کے دور میں ہی خلیجی فارس سے بہت سی عمدہ اور اعلیٰ قسم کی روایات دہلی میں پروان چڑھیں۔ علاولدین خلجی کا تعلق بھی فارس سے تھا اور اسکے رکھ رکھاو میں بھی بہت ہی ترتیب تھی ۔
بھنسالی کے مطابق پدماوت فلم کی کہانی مسلمان شاعر ملک محمد جیسی کی نظم پر مشتمل ہے ۔
جواہر لال نہرو یونیورسٹٰی کی پروفیسر ارونیما گوپی ناتھ کے مطابق یہ نظم خلجی کے دہلی سلطنت پر حملے کے دوسو سال بعد لکھی گئی تھی اور اسکی زبان راجستھانی بھی نہیں تھی ،اسکا دوسرے خطے کی زبان سے تعلق تھا۔
امیر خسرو خلجی کے زمانے سے تعلق رکھتے تھے اور ان کے زمانے میں کئی نظمیں اس دور پر لکھی گئی ہیں جن میں خلجی کو درندہ صفت یا سنگدل اور سخت گیر حکمران کے طور پر نہیں دکھایا گیاہے۔
مورخ سفوی کے مطابق فلم پدماوت میں علاولدین خلجی کو شاہد کپور کے مدمقابل ولن دکھانے کیلئے وحشی دکھایا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ خلجی اپنی ظالمانہ طبعیت سے واقف تھا لیکن اسکی شخصیت کسی بھی طور پر عورتوں کے پیچھے بھاگنا اور انکی سلطنتوں پر حملہ کرکے قبضہ کرنے کی نہیں تھی۔ خلجی صرف اپنی سلطنت کو بڑھاوا دینے اور فتوحات کے دائرے کو وسیع رکھنے کی خواہش رکھتا تھا۔
سفوی نے علاوالدین کے کردار پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ وہ سنگدل بادشاہ ضرور تھا لیکن ایک بہترین سپہ سالار بھی تھا جو کہ منگولوں کو کمزور کرنا چاہتا تھا۔
آراء: تاہم اس فلم کے بعد یہ خیال جنم لیتا ہے کہ کیا بھارتی فلمساز تاریخ کو نئے سرے سے لکھنے کی کوشش کررہے ہیں اور یہی وہ حقیقت ہے کہ تاریخ دوبارہ نہیں لکھی جاسکتی۔
Courtesy: Zee News