Subscribing is the best way to get our best stories immediately.
اسلام آباد:جمعیت علماءاسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ قومی ایکشن پلان اور اکیسویں ترمیم اور آپریشن ضرب عضب میں ترمیم ہونی چاہئے۔ مدارس پر چھاپے مار کر کس کی آنکھوں میں دھول چونکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔اسلام آباد میں اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ قومی ایکشن پلان، اکیسویں ترمیم اور آپریشن ضرب عضب وحی نہیں۔ اس میں ترمیم کی جا سکتی ہے۔ دہشتگردی کے خاتمے کےلئے کیا طاقت کی پالیسی کامیاب ہوئی ہے یا ناکام۔ اس پر از سرنو فیصلے کرنے ہوں گے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت کے علم میں ہے کہ ملک میں باقاعدہ مسلح تنظیمیں موجود ہیں۔ تو پھر ایک یا دو افراد کےلئے مدارس اور مساجد پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ کس کی آنکھوں میں دھول چونکنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ امن کے نام پر مدارس کے تقدس کو پامال کیا جا رہا ہے۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ جامعہ حفصہ میں پہلے جو واقعات ہوئے وہ منصوبے کے تحت بنائے گئے۔ تاکہ مدارس کیخلاف کارروائی کا جواز مل سکے۔ وزیرداخلہ کہتے ہیں مدارس پر کیخلاف چھاپے نہیں مارے جا رہے لیکن دوسرے طرف حکومت تو چھاپے مار رہی ہے۔
اسلام آباد:جمعیت علماءاسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ قومی ایکشن پلان اور اکیسویں ترمیم اور آپریشن ضرب عضب میں ترمیم ہونی چاہئے۔ مدارس پر چھاپے مار کر کس کی آنکھوں میں دھول چونکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اسلام آباد میں اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ قومی ایکشن پلان، اکیسویں ترمیم اور آپریشن ضرب عضب وحی نہیں۔ اس میں ترمیم کی جا سکتی ہے۔ دہشتگردی کے خاتمے کےلئے کیا طاقت کی پالیسی کامیاب ہوئی ہے یا ناکام۔ اس پر از سرنو فیصلے کرنے ہوں گے۔
انھوں نے کہا کہ حکومت کے علم میں ہے کہ ملک میں باقاعدہ مسلح تنظیمیں موجود ہیں۔ تو پھر ایک یا دو افراد کےلئے مدارس اور مساجد پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ کس کی آنکھوں میں دھول چونکنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ امن کے نام پر مدارس کے تقدس کو پامال کیا جا رہا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ جامعہ حفصہ میں پہلے جو واقعات ہوئے وہ منصوبے کے تحت بنائے گئے۔ تاکہ مدارس کیخلاف کارروائی کا جواز مل سکے۔ وزیرداخلہ کہتے ہیں مدارس پر کیخلاف چھاپے نہیں مارے جا رہے لیکن دوسرے طرف حکومت تو چھاپے مار رہی ہے۔