Subscribing is the best way to get our best stories immediately.
اسلام آباد:وزیراعظم نواز شریف نے پی آئی اے لازمی سروس ایکٹ لاگوکرنے کی منظوری دیدی ہے ، قانونی ماہرین کہتے ہیں ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے والے کو نوکری سے ہاتھ دھونے کے ساتھ ساتھ کریمنل کیسز کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے ۔سول ایوی ایشن ڈویژن کی جانب سے وزیراعظم نوازشریف کو لازمی سروس ایکٹ نافذ کرنے کیلئے سمری بھجوائی گئی تھی جسے وزیراعظم نے منظور کرلیا ، لازمی سروسز ایکٹ چھ ماہ کیلئے لاگوکیا گیا ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ لازمی سروس ایکٹ لاگو ہونے کے بعد ملازمین کی ہڑتال غیرقانونی ہوگئی ہے اور کوئی بھی ملازم غیرحاضر نہیں رہ سکتا جبکہ سروس پر حاضر نہ ہونے والوں کے خلاف سخت ایکشن لینے کیساتھ ساتھ ان کو نوکریوں سے بھی فارغ کیا جا سکتا ہے۔قانونی ماہرین کا کہنا تھا کہ سیکشن تھری اور سیکشن فور بہت اہم ہے ، ایکٹ تسلیم نہ کرنے والوں کو دو طرح کی سزاوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ، جس میں کریمنل کیس بھی شامل ہے ، جس میں ایکٹ کو نہ ماننے پر ایک سال سزا کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔پی آئی اے پرلازمی سروسز ایکٹ انیس سو باون لاگو کردیا گیا۔ جس کا باضابطہ طور پر نوٹفکیش بھی جاری کر دیا ہے۔
اسلام آباد:وزیراعظم نواز شریف نے پی آئی اے لازمی سروس ایکٹ لاگوکرنے کی منظوری دیدی ہے ، قانونی ماہرین کہتے ہیں ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے والے کو نوکری سے ہاتھ دھونے کے ساتھ ساتھ کریمنل کیسز کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے ۔
سول ایوی ایشن ڈویژن کی جانب سے وزیراعظم نوازشریف کو لازمی سروس ایکٹ نافذ کرنے کیلئے سمری بھجوائی گئی تھی جسے وزیراعظم نے منظور کرلیا ، لازمی سروسز ایکٹ چھ ماہ کیلئے لاگوکیا گیا ہے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ لازمی سروس ایکٹ لاگو ہونے کے بعد ملازمین کی ہڑتال غیرقانونی ہوگئی ہے اور کوئی بھی ملازم غیرحاضر نہیں رہ سکتا جبکہ سروس پر حاضر نہ ہونے والوں کے خلاف سخت ایکشن لینے کیساتھ ساتھ ان کو نوکریوں سے بھی فارغ کیا جا سکتا ہے۔
قانونی ماہرین کا کہنا تھا کہ سیکشن تھری اور سیکشن فور بہت اہم ہے ، ایکٹ تسلیم نہ کرنے والوں کو دو طرح کی سزاوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ، جس میں کریمنل کیس بھی شامل ہے ، جس میں ایکٹ کو نہ ماننے پر ایک سال سزا کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
پی آئی اے پرلازمی سروسز ایکٹ انیس سو باون لاگو کردیا گیا۔ جس کا باضابطہ طور پر نوٹفکیش بھی جاری کر دیا ہے۔