کراچی :جناح انٹرنیشنل ایئرپور ٹ میدان جنگ بن گیا

شائع 02 فروری 2016 04:39pm

کراچی :کراچی کا جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ میدان جنگ بن گیا، نجکاری کے خلاف نکالی گئی جوانئٹ ایکشن کمیٹی کی پرامن ریلی پر پہلے لاٹھی چارج کیا گیا پھر فائرنگ کردی گئی، جس کے باعث قومی فضائی کمپنی کے دو ملازمین جاں بحق ہوگئے۔

ملازمین نے کام چھوڑ دیا اور فلائٹ آپریشن بھی معطل کردیا گیا۔وہی ہوا جس کا ڈر تھا،کئی دن سے جاری رہنے والا پی آئی اے کا پرامن احتجاج خونریزی میں بدل گیا۔صبح معمول کے مطابق سب کچھ ٹھیک تھا، احتجاجی ملازمین مظاہرہ کررہے تھے اور پر امن تھے۔لیکن بارہ بجے اچانک صورتحال بدل گئی ، کراچی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پی آئی اے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے احتجاجی ریلی نکالی گئی۔معاملہ اس وقت گرم ہوگیا جب احتجاجی ریلی ممنوعہ علاقہ جناح ٹرمینل کی جانب جانے کیلئے نکلی۔اسی دوران پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری نے مظاہرین کو روکنے کی کوشش کی اور تصادم شروع ہوگیا۔پولیس نے پہلے واٹر کینن کا استعمال کیا۔پانی کی بوچھاڑ سے مظاہرین باز نہ آئے تو قانون نافذ کرنے والے ادارے ان پر لاٹھیاں لے کر پل پڑے۔

پھر نہ کوئی صحافی بچا نا اور نہ ہی پی آئی اے کا ملازم،تشدد کے باعث مظاہرین بھی اشتعال میں آگئے اور آگے بڑھنے کی کوشش کرنے لگے۔اس دوران اچانک فائرنگ شروع ہوگئی، جس کی زد میں آکر پی آئی اے کے اسسٹنٹ منیجر کمیونیکیشن عنایت رضا اور ایئر کرافٹ انجینئر سلیم اکبر جاں بحق ہوگئے۔جبکہ اسسٹنٹ ایچ آر منیجر زبیر شدید زخمی ہوگیا۔شیلنگ ، ربر کی گولیوں اور لاٹھی چارج کے باعث صحافیوں سمیت سولہ افراد بھی زخمی ہوئے۔جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے صدر سہیل بلوچ کا الزام ہے کہ فائرنگ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کی گئی۔

ادھر رینجرز کی جانب سے بھی فائرنگ کی تردید سامنے آگئی۔ترجمان رینجرز کے مطابق فائرنگ چھوٹے ہتھیار سے کی گئی۔مظاہرین پر تشدد کی اطلاع ملتے ہی ایئر پورٹ پر موجود عملے نے کام بند کر دیا اور فلائٹ آپریشن معطل ہو گیا، ایکشن کمیٹی نے اپنے تین عہدیداروں کی گرفتاری کا بھی دعویٰ کیا ہے۔

Read Comments