رپورٹ :عام طور پر ہم نے کئی لوگوں کو ہاتھوں کے ناخنوں کا دانتوں سے کترتے ہوئے یا کاٹتے ہوئے دیکھا ہے اور یہ عادت کافی عام بھی ہے۔ عام طور پر اس عادت کا شکار زیادہ تر افراد بچپن کے دور میں ہوتے ہیں اور پھر آگے چل کر یہ عادت مزید جڑ پکڑ جاتی ہے۔
تاہم سوال یہ ہے کہ لوگ اس عادت کا شکار کیوں ہوتے ہیں یا پھر وہ کیا محرکات ہیں جس کے باعث لوگ اس عادت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایسے افراد عام طور پر غیر متوازن شخصیت کے مالک ہوتے ہیں جبکہ اس مرض کا شکار افراد کا خاندانی پس منظر بھی انتہائی غیر محسوس پایا جاتا ہے۔
زندگی گزارنے کیلئے کسی بھی شخص کو ایک متوازن زندگی کی ضرورت ہوتی ہے۔ عام طور پر جذباتی لوگ یا متلون مزاج لوگ مسائل کا حل نکالنے میں دشواری محسوس کرتے ہیں۔ اور پھر اسکے باعث ناخون خوری شروع کردیتے ہیں یعنی خود آزادی میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔
ناخن کترنے سے متعلق ایک اور نیا پہلو بھی سامنے آیا ہے اور محققین کا کہنا ہے کہ ناخن کترنے والے افراد عام لوگوں کے موازنے میں زیادہ کمال پرست یا اپنا کام زیادہ مکمل طریقے سے سرانجام دینے کے قابل ہوتے ہیں۔ یونیورسٹی آف مونٹریال کے مطابق سائنسدانوں نے اس رویئے کو کمال پرستی یا پرفیکشنسٹ ہونے سے منسلک کیا ہے۔
کینیڈین سائنسدانوں کےمطابق وہ لوگ جو کہ ناخن کترنے کی عادت کا شکار ہوتے ہیں یہ لوگ اپنا کام کامل طریقے سے پورا کرنے پر یقین رکھتے ہیں ، سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کا کمال پرست ہونیکی بنیادی وجہ ہی غیر ارادی قوتوں کی وجہ سے ہوتا ہے۔
مطالعے کی مصنف سارا رابرٹسن نے ایک جریدے میں لکھا ہے کہ شرکاء اس وقت اس طرح کے رویئے کا مظاہرہ کرتے ہیں جب وہ مایوسی اور عدم اطمینان کا شکار ہوں۔
تحقیق میں شامل ایک اور مرکزی محقق نے بھی اپنا مشاہدہ بیان کیا ہے اورکہا ہے کہ جن لوگوں کے رویئے میں بے چینی یا عدم اطمینان کی صورت میں ناخن کاٹنا شامل ہوتا ہے ایسے لوگ کمال پرست شخصیت کے حامل ہوتے ہیں کیونکہ جب وہ دیگر لوگوں کی رفتار سے کوئی کام سرانجام نہیں دے پاتے تو بے چینی کا شکار ہوجاتے ہیں۔
رپورٹ