لاہور:برصغیر کی معروف کلاسیکل گلوگارہ ملکہ پکھراج کو ہم سے بچھڑے بارہ برس بیت گئے،ان کے سدا بہار گیتوں کا سحر آج بھی شائقین کے دلوں پر برقرار ہے۔
انیس سو چودہ کو ریاست جموں کشمیر میں پیدا ہونے والی کلاسیکل موسیقی کی ملکہ ملکہ پکھراج نے محض نو سال کی عمر سے ہی گائیکی کی تربیت حاصل کرنا شروع کر دی،مہاراجہ ہری سنگھ کی تاج پوشی کی تقریب میں گانا گایا تو مہاراجہ نے متاثر ہو کر انھیں دربار کی مغنیہ مقرر کر دیا جہاں انھوں نے نو سال تک سروں کا جادو بکھیرا۔
ملکہ پکھراج پہاڑی، بھجن اور ڈوگری زبانوں کی لوک موسیقی کی ماہر تھیں۔ چالیس کی دہائی میں ان کا شمار برصغیر کے صف اول کے گانے والوں میں ہوتا تھا۔ انہوں نے نامور شعرا کی نظمیں بھی گائیں۔
انیس سو اسی میں حکومت پاکستان نے ان کو تمغہ حسن کارکردگی سے نوازا۔ ملکہ پکھراج کے گائے ہوئے گانوں کی تعداد اگرچہ کم ہے لیکن انوں نے جو بھی گیت گایا گیا موسیقی کی دنیا میں امر ہو گیا۔ آپ چار فروری دوہزار چار کو اس جہان فانی سے کوچ کر گئیں۔