یہ غدود جلد کے مساموں کے ذریعہ چکنائی اور پروٹین خارج کرتے ہیں۔ اس چکنائی اور پروٹین کی وجہ سے جلد کی اوپری سطح پر جراثیم پلنے لگتے ہیں۔ ان جراثیموں کی وجہ سے بغل میں بد بو پیدا ہوتی ہے۔
ڈیوڈورانٹ کا کام ان جراثیموں کو نشانہ بنانا ہے۔ بہت سے ڈیوڈورانٹس میں ٹرائیکلوسان نامی ایک کیمیکل شامل ہوتا ہے۔ یہ کیمیکل جلد میں نمکیات اور تیزابیت بڑھا دیتا ہے جس کی وجہ سے جراثیم پیدا نہیں ہو پاتے۔ لیکن چراثیم ختم ہوجانے سے پسینہ آنے کا عمل نہیں رکتا۔
جبکہ اینٹی پرسپائرانٹ استعمال کرنے سے پسینہ آنا فوراً بند ہوجاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں ایلمونیئم، زنک اور زائکرونیئم جیسے اجزاء شامل ہوتے ہیں۔ یہ اجزاء پسینہ خارج کرنے والے غدودوں کو غیر فعال بناتے ہیں۔ اسی لئے پسینہ نہ آنے کی وجہ سے جراثیم بھی پیدا نہیں ہو پاتے۔
جسم سے پسینے کی بدبو ختم کرنے کے لئے اور بھی بہت کچھ کیا جاسکتا ہے۔ انسان کی غذا کا اس کی جسمانی خصوصیات میں بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔ بند گوبھی اور بروکلی جیسی سبزیاں جسم کی بو کو بد تر بناتی ہیں۔ اس کے علاوہ نہانا بھی جسم کی بدبو کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔