قومی اسمبلی: قائمہ کمیٹی نے میرج بل دو ہزار پندرہ کی منظوری دیدی

شائع 08 فروری 2016 01:43pm

اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی قانون و انصاف نے ہندو میرج بل دو ہزار پندرہ کی منظوری دے دی۔چیرمین کمیٹی کہتے ہیں ایک بھی صوبہ بل کی حمایت میں قرارداد پاس کرے گا تو یہ قانون نافذ ہو جائے گا۔

چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف بشیرورگ کی زیرصدارت اجلاس میں ہندومیرج بل دوہزارپندرہ کی منظوری دے دی گئی۔چیئرمین کمیٹی کا کہنا تھا کہ ایک بھی صوبہ بل کی حمایت میں قرارداد پاس کرے گا تو یہ قانون پورے ملک میں نافذ ہو جائے گا۔بل کے تحت لڑکی کی عمرسولہ اورلڑکے کی عمراٹھار ہ سال ہونی چاہیے۔

رکن کمیٹی مولانا شیرانی نے شادی کی عمر کے تعین پر تحفظات کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ ہندومذہب کا احترام کرتے ہیں،طبعی بلوغت کو مدنظر رکھ کر عمرکا تعین کرنا چاہیے۔

رمیش لال کا کہنا تھا کہ سوچ سمجھ کر عمرکی حد رکھی گئی ہے۔علی محمد خان کا کہنا تھا کہ کیا ہندومیرج بل پربھارت کے قوانین سے استفادہ کیا گیا؟ قوانین روز نہیں بنتے، کسی کی حق تلفی نہیں ہونی چاہیے۔

چیئرمین کمیٹی کا کہنا تھا کہ بھارتی قوانین اتنے مفصل نہیں کہ انکا مطالعہ کیا جائے۔

Read Comments