سپریم کورٹ نے چار مجرموں کی سزا پر عمل درآمد تاحکم ثانی روک دیا

شائع 09 فروری 2016 05:18pm

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے فوجی عدالت سے سزا یافتہ چار مجرموں کی سزا پر عمل درآمد تاحکم ثانی روک دیا ہے۔ان افراد کو سانحہ آرمی پبلک اسکول، نوشہرہ بم دھماکے اور باجوڑ فائرنگ میں ملوث ہونے پر سزائے موت دی گئی تھی۔

جسٹس دوست محمد نے کہا کہ فوجی عدالتیں اپنے فیصلوں میں وجوہات ضرور بیان کریں۔سپریم کورٹ کے دورکنی بنچ نے جسٹس دوست محمد کی سربراہی میں فوجی عدالتوں سے سزائے موت پانے والے چار مجرمان کی اپیلوں پر سماعت کی۔

فوجی عدالتوں نے علی رحمان اور تاج محمد کو سانحہ آرمی پبلک اسکول میں سہولت کار کا کردار ادا کرنے، قاری محمد زبیر کو نوشہرہ مسجد میں بم دھماکے اور عمران کو باجوڑ ایجنسی میں کرفیو کی خلاف ورزی اور فائرنگ میں ہلاکتوں پر سزائے موت سنائی تھی۔ آرمی چیف نے اِن سزاوٴں کی توثیق بھی کردی تھی۔ سماعت کے دوران مجرمان کے وکلاء خالد خٹک اور لطیف آفریدی نے عدالت کے سامنے دلائل دیے۔جسٹس دوست محمد نے اپنے دلائل میں کہا کہ فوجی عدالت اپنے فیصلوں میں وجوہات ضرور بیان کریں۔

عدالت نے حقائق جاننے کے لیے اٹارنی جنرل اور جیک برانچ کو نوٹسز جاری کردیے۔عدالت نے چاروں مجرمان کی سزاوٴں پر تاحکم ثانی عمل درآمد معطل کرکے سماعت سولہ فروری تک ملتوی کردی۔

Read Comments