Subscribing is the best way to get our best stories immediately.
مظفرآباد©:آزاد کشمیر کی سیاست میں کشیدگی بڑھتی جارہی ہے۔ ایک جانب سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر الزامات لگانے میں مصروف ہیں تو آج ضلع کوٹلی میں مسلم لیگ ن اورپیپلزپارٹی کے کارکنوں میں تصادم کے دوران دو افراد جاں بحق اور دس زخمی ہوگئے۔علاقے میں کشیدہ صورتحال کے باعث فوج طلب کرلی گئی ہے۔ تصادم میں جاں بحق افراد کا پوسٹ مارٹم جاری ہے۔ضلع کوٹلی کے علاقے نکیال میں بلاول بھٹو کنووینشن کے لیے نکالے جانے والی پیپلزپارٹی کی ریلی جیسے ہی نکیال چوک پہنچی اس کا مسلم لیگ ن کے کارکنوں سے ٹکراو¿ ہوگیا۔ بات تلخ کلامی سے پتھراو¿ تک پہنچ گئی۔ پتھراو¿ کے نتیجے میں پیپلزپارٹی کے دو کارکن جاں بحق اور بیس زخمی ہوگئے۔دونوں گروپوں میں تصادم کے بعد پولیس کی بھاری نفری پہنچی اور مشتعل کارکنوں پر آنسو گیس کے شیل داغے۔ جس کے بعد مشتعل افراد منتشر ہوگئے۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مسلم لیگ نون کے متعدد کارکنوں کو گرفتار بھی کرلیا۔ کشیدہ صورتحال کے باعث علاقے میں فوج طلب کرلی گئی۔ شہر کی اہم عمارتوں اور سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سکندر حیات کے گھر کے باہر بھاری سیکیورٹی بھی تعینات کردی گئی ہے۔ڈپٹی کمشنر کوٹلی کے مطابق واقعے کی تحقیقات کیلئے جوڈیشنل کمیشن قائم کردیا ہے۔ جو بیس گھنٹے میں اپنی رپورٹ پیش کرے گا۔ادھر وفاقی وزیراطلاعات پرویزرشید کہتے ہیں اگر وزیراعظم آزاد کشمیر اپنے لب و لہجے کو حد میں رکھتے تو شاید ایسا واقعہ رونما نہ ہوتا۔اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا کہ مسلم لیگ نون اتنا ظلم کرے جتنا وہ برداشت کرسکے۔ اس طرح کی سیاست سے کل آپ بھی نہیں بچ سکیں گے۔
مظفرآباد©:آزاد کشمیر کی سیاست میں کشیدگی بڑھتی جارہی ہے۔ ایک جانب سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر الزامات لگانے میں مصروف ہیں تو آج ضلع کوٹلی میں مسلم لیگ ن اورپیپلزپارٹی کے کارکنوں میں تصادم کے دوران دو افراد جاں بحق اور دس زخمی ہوگئے۔علاقے میں کشیدہ صورتحال کے باعث فوج طلب کرلی گئی ہے۔ تصادم میں جاں بحق افراد کا پوسٹ مارٹم جاری ہے۔
ضلع کوٹلی کے علاقے نکیال میں بلاول بھٹو کنووینشن کے لیے نکالے جانے والی پیپلزپارٹی کی ریلی جیسے ہی نکیال چوک پہنچی اس کا مسلم لیگ ن کے کارکنوں سے ٹکراو¿ ہوگیا۔ بات تلخ کلامی سے پتھراو¿ تک پہنچ گئی۔ پتھراو¿ کے نتیجے میں پیپلزپارٹی کے دو کارکن جاں بحق اور بیس زخمی ہوگئے۔دونوں گروپوں میں تصادم کے بعد پولیس کی بھاری نفری پہنچی اور مشتعل کارکنوں پر آنسو گیس کے شیل داغے۔ جس کے بعد مشتعل افراد منتشر ہوگئے۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مسلم لیگ نون کے متعدد کارکنوں کو گرفتار بھی کرلیا۔
کشیدہ صورتحال کے باعث علاقے میں فوج طلب کرلی گئی۔ شہر کی اہم عمارتوں اور سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سکندر حیات کے گھر کے باہر بھاری سیکیورٹی بھی تعینات کردی گئی ہے۔ڈپٹی کمشنر کوٹلی کے مطابق واقعے کی تحقیقات کیلئے جوڈیشنل کمیشن قائم کردیا ہے۔ جو بیس گھنٹے میں اپنی رپورٹ پیش کرے گا۔ادھر وفاقی وزیراطلاعات پرویزرشید کہتے ہیں اگر وزیراعظم آزاد کشمیر اپنے لب و لہجے کو حد میں رکھتے تو شاید ایسا واقعہ رونما نہ ہوتا۔اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا کہ مسلم لیگ نون اتنا ظلم کرے جتنا وہ برداشت کرسکے۔ اس طرح کی سیاست سے کل آپ بھی نہیں بچ سکیں گے۔