ایک حالیہ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو افراد ناخن کھانے کے عادی ہوتے ہیں وہ عموماً دوسرے لوگوں سے زیادہ ذہین ہوتے ہیں۔ یونیورسٹی آف مونٹریل کے ماہرین نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جن افراد میں نیل بائٹنگ کی عادت ہوتی ہے وہ دوسرے لوگوں سے زیادہ ذہین اور عقلمند ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر کیرون کا کہنا ہے کہ ایسے افراد جب تک اپنا کام پایہ تکمیل تک نہیں پہنچا دیتے ، سکون سے نہیں بیٹھتے۔اس کے علاوہ دیگر ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے افراد اپنے کام کو لے کے بہت زیادہ سنجیدہ ہوتے ہیں اور جب تک ان کا کام پورا نہیں ہوجاتا وہ پریشانی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسے افراد بور بھی بہت جلدی ہوجاتے ہیں۔
ماہرین نے اڑتالیس لوگوں پر تحقیق کی تھی ، جس میں سے آدھے لوگ نیل بائٹنگ کا شکار تھے اور آدھے لوگ اس عادت کی شکار نہیں تھے۔ اس تحقیق کو کرنے کے لیے دو گروپس تشکیل دیے گئے۔ جس میں ایک گروپ میں نیل بائٹنگ کے شکار افراد کو رکھا گیا اوردوسرے گروپ میں ان افراد کو رکھا گیا جو نیل بائٹنگ کا شکار نہیں تھے۔پھر دونوں گروپ کوچھ منٹ کے لیے ایک کمرے میں بند کردیا جہاں ان کو نہ موبائل فون دیا گیا، نہ اخبار، نہ میگزین اور نہ ہی کمپیوٹر۔تھوڑی دیر بعد وہ افراد جو نیل بائٹنگ کا شکار تھے اپنا ناخنوں کو منہ سے کاٹنا شروع ہوگئے کیونکہ وہ ایک ہی جگہ بیٹھ کے بوریت اور اکتاہٹ کا شکار ہوگئے تھے۔
اس تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ جب نیل بائٹنگ افراد کو چھ منٹوں تک کچھ بھی کرنے کو نہیں ملا تو وہ اکتاہٹ کا شکار ہوگئے اور پریشانی کے عالم میں اپنے ناخنوں کو تراشنہ شروع ہوگئے۔