اپ ڈیٹ 22 فروری 2016 06:21am

خبردار! مائیکرویو کا استعمال ترک کریں ورنہ یہ سب ہو سکتا ہے

آج کل مصروفیات کے باعث لوگ کاہلی کا شکار ہو چکے ہیں اور نت نئے ایسے طریقے متعارف ہو چکے ہیں جن سے کام منٹوں میں نمٹ جاتے ہیں۔ مائیکرویو کا استعمال اب آہستہ آہستہ ہماری عادت بن چکا ہے، رات کابچا ہواکھانا مائیکرویواوون سے گرم کرنا ایک عام سی بات ہے۔ مائیکرویوطویل عرصے سے گھروں میں استعمال کیاجارہاہے۔ لوگ کھانا پکانے یاکھانا گرم کرنے کے لیے گیس کی چولہے استعمال کرتے ہیں اور مائیکرویوکا بھی۔

امریکہ میں کی جانے والی حالیہ تحقیق کے مطابق یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ مائیکرویواستعمال کرنا صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مائیکروویومیں جو حدت پیداہوتی ہے، اس سے غذا کے سالمات میں بہت تبدیلی آجاتی ہے اور اس تبدیلی سے اس کی غذائیت ضائع ہوجاتی ہے۔ اس لئے وہ افراد جو مائیکروویواستعمال کرنے کے عادی ہو چکے ہیں انہیں یہ مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ مائیکروویواستعمال کرنے کے بجائے اپنی غذاو¿ں کوعام چولہے کی ہلکی آنچ پربھاپ میں گلائیں یاتوے پربھون لیں۔ اس صورت میں آپ مائیکروویوسے پہنچنے والے نقصانات سے محفوظ رہیں گے۔

مائیکروویوکوجب چلایاجاتاہے تواس میں سے برقی مقناطیسی شعاعیں خارج ہوتی ہیں۔ جب ہم مائیکروویومیں کوئی کھانے کی چیز گرم کرنے یا پکانے کے لیے رکھتے ہیں تویہ برقی مقناطیسی شعاعیں غذامیں شامل ہوجاتی ہیں اور غذامیں ایسے اثرات پیداکردیتی ہیں کہ اسے کھانے سے سرطان ہوسکتاہے۔ مائیکروویو میں پکے ہوئے کھانوں کوکھانے سے خون کے سرخ اور سفید خلیات میں کمی ہوجاتی ہے اور یہ کمی اسی برقی مقناطیسی شعاعوں کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ہم پر گہری تھکن طاری ہوسکتی ہے۔ ہمارا سرچکراسکتاہے اور ہمارے دل کی رفتار بھی معمول سے بڑھ سکتی ہے۔

مائیکروویو استعمال کرتے ہوئے ہم یہ کرتے ہیں کہ جب ہمیں کوئی غذاگرم کرنی ہوتی ہے توہم پلاسٹک کے برتن میں ڈال کرمائیکروویومیں رکھ دیتے ہیں، جوایک خطرناک غلطی ہے۔ پلاسٹک کے برتنوں میں ایسے کیمیائی اجزا ہوتے ہیں، جومضرصحت ہوتے ہیں اور یہ اجزااس غذا میں شامل ہوجاتے ہیں، جواس میں گرم کی جاتی ہے۔

اس کے علاوہ پلاسٹک زیادہ گرمی برداشت نہیں کرسکتااور پگھلنے لگتاہے۔ تحقیق میں یہ بات بھی واضح کی گئی ہے کہ پلاسٹک سے خارج ہونے والے ان مضر صحت اجزا کی مقدارجب جسم میں بڑھ جاتی ہے توحساسیت، ہائی بلڈپریشر، دماغی توازن میں خرابی، وزن کابڑھنا اور دل کی
بیماریاں گھیرلیتی ہیں۔ اس وجہ سے تحقیق کاروں کامشورہ ہے کہ نہ مائیکروویو میں کھانے پکائے یاگرم کیے جائیں اور نہ اس میں پلاسٹک کابرتن رکھاجائے۔ پلاسٹک کے برتن توویسے بھی استعمال نہیں کرنے چاہییں، کیوں کہ تحقیقات سے ثابت ہوچکا ہے کہ یہ صحت کے لیے مضرہوتے ہیں۔

آئندہ جب آپ کادل چاہ رہاہو کہ گرم گرم پاپ کارن کھائے جائیں یاچاے یاکافی پی جائے تومائیکرو ویواستعمال کرنے کے بجائے گھرمیں موجود عام چولہا استعمال کیجئے۔ چولہے پرپکی ہوئی یاگرم کی ہوئی غذا مضرصحت نہیں ہوتی ہے۔

Read Comments