بچوں کی نگہداشت میں کی جانے والی سنگین غلطی جو آپ شاید نہیں جانتے
اکثر یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ بچے کارٹونز اور گیمز کے شوقین ہوتے ہیں، آجکل کے بچے اب سے پچھلے دور کے بچوں سے بیحد مختلف ہیں، اس دور کے بچے ڈیجیٹل دور کے بچے کہلائے جاتے ہیں جنہیں ماں باپ سے کہیں زیادہ چیزوں کی سمجھ ہے۔ اور اسی وجہ سے وہ بہت ساری جسمانی سرگرمیوں سے محروم رہتے ہیں۔ ان کے دماغ ٹی وی اینی میٹڈ فلموں ، کارٹونز اور گیمز تک محدود رہتی ہے جوکہ ان کے لئے بیحد خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
مائیںاپنے گھریلو کام نمٹانے کے لئے بچوں کو ٹی وی پر مزے دار کارٹونز لگا کر دیتی ہیں اور بچے انہیں بیٹھے گھنٹوں دیکھتے رہتے ہیں اس سے ان کے دماغ پر سنگین اثرات مرتب ہوتے ہیں جن کے بارے میں کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا۔
بچوں کی نگہداشت میں یہ چیز ان کی باتیں کرنے کی صلاحیت کو بیحد کم کر دیتی ہیں۔ ان کے سوالات کرنے کے تجسس کو کم سے کر تر بنا دیتی ہے، یہ ایک ایسا زہر ہے جو بچوں میں آہستہ آہستہ پھیل رہا ہے اور والدین کو خبر نہیں۔ ایسا نہیں کہ بچے سیکھ نہیں رہے۔ گھر والوں سے بہت سی اہم چیزیں بچے سیکھ تو رہے ہیں پر دیکھ کیا رہے ہیں وہ بھی بہت اہمیت رکھتا ہے۔ آجکل سو سے زائد چینلز کیبل پر نشر کئے جاتے ہیں ۔
زیادہ تر چینلز پر بہت سی غلط چیزیں بھی نشر کی جاتی ہیں جن سے بچوں کے ذہنوںمیں ہر طرح طرح کے خیالات ابھرتے ہیں۔ اور ان کا جواب دینا کسی بھی ماں یا باپ کے لئے مشکل ہوتا ہے۔ اکسٹھ فیصد چینل تشدد پر مبنی چیزیں دکھاتے ہیں کارٹونز بظابر تو بہت مزاحیہ ہوتے ہیں مگر ان میں بھی مار دھاڑ کا عنصر بہت زیادہ ہوتا ہے۔
ایک تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ جو بچے دن میں چار سے پانچ گھنٹے مسلسل غیر معلوماتی چینل دیکھتے ہیں وہ دراصل اپنے سامنے آٹھ ہزار خون کرنے کے طریقے سیکھ رہے ہوتے ہیں جو کہ بیحد نقصان دہ ہے۔
ٹی وی بچوں کی صلاحیت پر بری طرح اثر انداز ہو رہا ہے۔ اس چیز کی روک تھام کرنا بہت ضروری ہوتا جا رہا ہے اسلئے بجائے کہ بچوں کو گھنٹوں ٹی کی سامنے بٹھایا جائے اس سے کہیں زیادہ اچھا ہے کہ انہیں کسی جسمانی سرگرمیوں والے گیم میں مصروف کر دیا جائے جن سے ان کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت میں اضافہ ہو اور وہ سوالات کر سکیں ۔