پنجاب اسمبلی: خواتین کے تحفظ سے متعلق بل منظور

شائع 24 فروری 2016 04:54pm

لاہور:پنجاب اسمبلی نے خواتین کے تحفظ سے متعلق بل کی متفقہ طور پر منظوری دے دی۔ خواتین پر تشدد کرنے والوں کو قید اور جرمانے کی سزا دی جائے گی۔ عورت پر سنگین تشدد کے جرم میں ملوث شخص کے ٹخنہ یا کلائی پر جی پی ایس ٹریکر باندھا جائے گا۔ گھریلو جھگڑے پر بیوی نہیں بلکہ شوہر ہوگا گھر سے باہر۔

پنجاب اسمبلی میں خواتین کے تحفظ سے متعلق بل منظورہوگیا۔وزیرقانون پنجاب رانا ثناء اللہ نے بل ایوان میں پیش کیا تو حزب اختلاف اور اقتدار کی خواتین ایک ہوگئیں۔سب نے اختلافات بھلا کر بل کی بھر پور حمایت کی۔

بل کے مطابق عورت پر شدید تشدد کرنے والے شخص کو انوکھی سزاملے گی۔مجرم کے ٹخنہ یا کلائی پر بریسلٹ جی پی ایس ٹریکر باندھا جائے گا۔ اب خاتون خانہ کو بھی ٹول فری نمبر ملے گا اوراگر شوہر نے بدکلامی کی تو وہ اسے گرفتار کراسکے گی۔

بدتمیزی ہوئی تو کوئی بھی خاتون ٹول فری نمبر پر ڈسٹرکٹ ویمن پروٹیکشن آفیسر کو شکایت کرسکتی ہے۔اب کسی گھریلوجھگڑے پر خاوند اپنی زوجہ کو گھر سے نہیں نکال سکے گا۔ہاں اگر بیگم عدالت پہنچ گئی تومجازی خدا کو گھرچھوڑنا پڑ سکتا ہے۔بیوی پر تشدد کیا یا اسکی شہرت کو نقصان پہنچایا تب بھی شوہرکو ہونا پڑے گا گھر سے باہر۔

شکایت کی صورت میں مدعا علیہ اپنے پاس موجود لائسنسی اسحلہ بھی پولیس اسٹیشن میں سرنڈر کرے گا۔بل کے مطابق حکومت تشدد کی شکار خواتین اور انکے زیر کفالت بچوں کو شیلٹر ہومز قائم کرے گی۔ویمن پروٹیکشن سینٹرز متاثرہ خواتین کو انصاف کی فراہمی، پولیس رپورٹنگ، کریمنل کیسزکی رجسٹریشن اور مقدمات کی مناسب پرسیکوشن میں مدد فراہم کریں گے۔

بل کے مطابق جو خاتون غلط اطلاع دے تو اسے تین ماہ تک قید یا پچاس ہزار سے ایک لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں سنائی جا سکتی ہیں۔

Read Comments