ملک میں پچیس لاکھ سے زائد بچے گھروں کی کفالت پر مجبور

شائع 28 فروری 2016 03:05pm

اسلام آباد:کام کے چھوٹے۔ اپنے گھر کے بڑے ہوتے ہیں، معاشی پریشانیوں اور محدود تعلیمی وسائل کے باعث پاکستان میں پچیس لاکھ سے زائد بچے پڑھنے کے بجائے محنت مزدوری کرکے اپنے گھروں کی کفالت پر مجبور ہیں۔

کراچی کے گیارہ سالہ منور کا خواب تو اعلی تعلیم کا حصول ہے ، مگر معاشی تنگدستی کے باعث اسے ہاتھوں میں قلم کے بجائے چمچہ تھامنا پڑا۔

منورپڑھتا بھی ہے ، مگر اسے دن کے دس گھنٹے ایک دھابے پر کام کرکے گھر والوں کا پیٹ بھی پالنا پڑتا ہے۔ کچھ ایسی ہی کہانی بارہ سالہ سعید کی بھی ہے ، سعید کا باپ جو کچھ کماتا ہے ، وہ گیارہ افراد پر مشتمل اس کے خاندان کے لیے ناکافی ہے اور اس کمی کو پورا کرتے ہیں نو عمر سعید کے معصوم ہاتھ جو اوزار تھامے سارا دن گاڑیوں کی مرمت میں مصروف رہتے ہیں۔

حکومت کے بارہا وعدوں کے باوجود پاکستان میں دس سے چودہ سال عمر کے پچیس لاکھ سے زائد نوعمر بچے معیشت کی بھٹی کا ایندھن بننے پر مجبور ہیں۔

Read Comments