Subscribing is the best way to get our best stories immediately.
پشاور ہائیکورٹ میں سابق صدر اور آرمی چیف جنرل ضیاءالحق کو فیصل مسجد میں دفنانے کے خلاف ایک شہری نے رٹ دائر کی ہے۔ جس میں درخواست گزار نے استدعا کی ہے کہ ضیاءالحق کے قبر کو کسی اور جگہ منتقل کیا جائے یا مجھے بھی فیصل مسجد میں دفنایا جائے۔سپریم کورٹ کے وکیل محمد خورشید خان نے پشاور ہائیکورٹ میں دائر رٹ دائر کی ہے۔ جس میں انہوں نے مؤقف اپنا ہے کہ ضیاء الحق نے ملک میں آئین معطل کرکے غیر آئینی حکومت کی اور مرنے کے بعد انہیں سعودی عرب کے بادشاہ فیصل کے عطیہ پر تعمیر فیصل مسجد میں دفنایا گیا۔ درخواست گزار کے مطابق مساجد کو عبادات اور درسگاہ کے علاوہ کسی اور سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے عدالت سے استدعا کی جاتی ہے کہ اسلام آباد میں قبرستان ہونے کے باوجود ضیاءالحق کو فیصل مسجد میں دفنانے کو غیر اسلامی اور غیر اخلاقی قرار دیا جائے اور ضیاء الحق کی قبر کو کسی اور جگہ منتقل کیا جائے۔درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو مجھ سمیت دیگر پاکستانیوں کو بھی فیصل مسجد میں دفنایا جائے کیونکہ یہ امتیازی سلوک ہے۔ رٹ میں وفاقی حکومت، چیئرمین کیپیٹل ڈولپمنٹ اتھارٹی اسلام آباد اور سیکرٹری قانون کو فریق بنایا گیا ہے۔
پشاور ہائیکورٹ میں سابق صدر اور آرمی چیف جنرل ضیاءالحق کو فیصل مسجد میں دفنانے کے خلاف ایک شہری نے رٹ دائر کی ہے۔ جس میں درخواست گزار نے استدعا کی ہے کہ ضیاءالحق کے قبر کو کسی اور جگہ منتقل کیا جائے یا مجھے بھی فیصل مسجد میں دفنایا جائے۔
سپریم کورٹ کے وکیل محمد خورشید خان نے پشاور ہائیکورٹ میں دائر رٹ دائر کی ہے۔ جس میں انہوں نے مؤقف اپنا ہے کہ ضیاء الحق نے ملک میں آئین معطل کرکے غیر آئینی حکومت کی اور مرنے کے بعد انہیں سعودی عرب کے بادشاہ فیصل کے عطیہ پر تعمیر فیصل مسجد میں دفنایا گیا۔
درخواست گزار کے مطابق مساجد کو عبادات اور درسگاہ کے علاوہ کسی اور سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے عدالت سے استدعا کی جاتی ہے کہ اسلام آباد میں قبرستان ہونے کے باوجود ضیاءالحق کو فیصل مسجد میں دفنانے کو غیر اسلامی اور غیر اخلاقی قرار دیا جائے اور ضیاء الحق کی قبر کو کسی اور جگہ منتقل کیا جائے۔
درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو مجھ سمیت دیگر پاکستانیوں کو بھی فیصل مسجد میں دفنایا جائے کیونکہ یہ امتیازی سلوک ہے۔ رٹ میں وفاقی حکومت، چیئرمین کیپیٹل ڈولپمنٹ اتھارٹی اسلام آباد اور سیکرٹری قانون کو فریق بنایا گیا ہے۔