سپریم کورٹ: حلقہ این اے 125 کی انتخابی عذرداری سے متعلق کیس کی سماعت

شائع 01 مارچ 2016 01:54pm

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کے رہنما حامد خان کو نادراسے ووٹووں کے تصدیقی عمل کے لیے رقم جمع کرانے کے لیے چار ہفتوں کا وقت دیتے ہوئے حکم دیا ہے کہ رقم جمع نہ کرانے کی صورت میں نادرا سے تصدیقی عمل کے بغیر ہی کیس کی کاروائی کو آگے بڑھایا جائے گا۔

چیف جسٹس انورظہیرجمالی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے ایک سو پچیس کی انتخابی عذرداری سے متعلق کیس کی سماعت کی۔تحریک انصاف کے رہنما حامد خان اپنے وکیل احمد اویس کے ہمراہ پیش ہوئے۔حامد خان نے نادراسے ووٹوں کی تصدیق کے لیے اخراجات اداکرنے سے معذرت کرلی۔حامد خان کا کہنا تھا کہ ہمیں گزشتہ عدالتی حکم نامہ پر اعتراضات ہیں جو درخواست کی صورت دائر کیے ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر آپ کے سامنے حکم تحریرہوا۔اعتراضات تھے تواس وقت بتانا چاہیے تھا۔اعتراضات پردرخواست کی سماعت کرلیتے ہیں۔

جسٹس عظمت سعید نے استفسارکیا کہ آپ نے رقم جمع کرادی پھراعتراض کیسا،جس پرحامد خان کے وکیل احمد اویس کا کہنا تھا کہ ہم نے رقم الیکشن کمیشن سے متعلق خرچ کے لیے جمع کرائی، ووٹوں کی تصدیق پرلاگت بہت زیادہ ہے حامد خان نے استدعا کی کہ غلطی الیکشن کمیشن کی ہے اخراجات بھی الیکشن کمیشن کو ہی ادا کرنے کا حکم دیا جائے ۔عدالت نے حامد خان کو حکم دیا کہ چارہفتوں کے اندرنادراسے ووٹوں کی تصدیقی عمل کے لیے رقم جمع کرائیں، بصورت دیگرنادراسے تصدیقی عمل ختم تصورکیا جائے گااورمقدمہ کی کارروائی جوں کی توں جاری رہے گی۔

Read Comments