مصطفی کمال کی پریس کانفرنس، اہم انکشافات

اپ ڈیٹ 03 مارچ 2016 02:07pm

کراچی :سابق سٹی ناظم کی ہنگامی واپسی نے پورے پاکستان کو ہلا کر رکھ دیا، آج انہوں نے چند ایسے رازوں سے پردہ اٹھایا جن کے بارے میں جان کر ہر کوئی حیران ہے، آج صبح سے ہی پورے پاکستان کو تین بجے ہونے والی ان کی ہنگامی کانفرنس کا انتظار تھا ،مصطفی کمال نے اپنی پریس کانفرنس میں اپنی سابقہ پارٹی (ایم کیوایم ) کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عوام، اسٹیبلشمنٹ اور حکومت سمیت سب کو پتہ ہے ایم کیو ایم قائدکے را سے تعلقات ہیں،ہم تو سمجھتے تھے وہ نجات دہندہ ہیں ،لوگوں نے ان کے لئے جانیں دے دیں۔

کراچی میں انیس قائمخانی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مصطفی کمال نے کہا کہ پارٹی کی ہر بڑی شخصیت کو پتہ ہے کہ متحدہ کے قائد (الطاف حسین) کے را سے تعلقات ہیں ابھی نام تو نہیں لینا چاہتا لیکن سب جانتے ہیں،اسکاٹ لینڈ یارڈ نے الطاف حسین کے خلاف ثبوت پیش کئے اور مختلف رہنماوٴں سے بھی تفتیش کی۔

مصطفی کمال کا مزید کہنا تھا کہ ہم یہاں اس لئے واپس آئے ہیں کہ کسی کو اگر میری بات غلط لگے تو چیلنج کرے میں ثابت کروں گا۔ہماری کامیابی کا دارومدار اس بات پر نہیں کہ کوئی ہماری بات مانتا ہے یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ موت کے بعد سر خرو ہونا چاہتے ہیں ،یہ کہا جاتا ہے کہ جو قائد کا غدار ہے وہ موت کا حقدار ہے۔

انہوں نے مزیدکہا کہ جب میں نے نظامت چھوڑی تو ایک انچ زمین بھی نہیں تھی میں اردو بولنے والوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ آج ہم زندگی کھونے نہیں زندگی بچانے آئیں ہیں، آج ایم کیو ایم قائد فرما رہے ہیں کہ میں ایک محب وطن پاکستانی لیڈر ہوں،میں آج یہ چیلنج کرتا ہوں الطاف حسین کارکنوں کو یہ آکر کہیں کہ دشمن ملک کے ساتھ تعلقات عوام کے مفاد میں ہیں۔

مصطفی کمال نے کہا کہ لندن پولیس نے متحدہ کے قائد سے مسلسل تین دن تفتیش کی ،تفتیش کے دوران ایم کیو ایم قائد کے گھر سے پیسے اورکاغذات برآمد ہوئے۔لندن پولیس نے محمد انور اور طارق میر سے بھی تفتیش کی اور انہوں نے اسکاٹ لینڈ یارڈ پولیس کو سب کچھ بتادیا۔ اْس وقت کے وزیر داخلہ رحمان ملک کوان سب باتوں کا علم تھا۔

 مصطفی کمال نے دوران پریس کانفرنس نئی پارٹی کے قیام کا اعلان بھی کردیا۔ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک اس پارٹی کا کوئی نام نہیں ہے،ہم دو افراد مصطفی کمال اور انیس قائمخانی اس پارٹی کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔

اس موقع پر مصطفی کمال نے نئی پارٹی کے جھنڈے کی رونمائی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا جھنڈا ہی ہماری پارٹی کا جھنڈا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے ملک کو کئی طرح سے توڑا جا رہا ہے کہیں مسلک کی بنیاد پر،کہیں قومیت کی تو کہیں پارٹی کی بنیاد پر میں اس پاکستان کے جھنڈے میں اور رنگ ڈال کراس کو خراب نہیں کرنا چاہتا اور میں یہاں اپنے ملک کو توڑنے نہیں بلکہ اس کو جوڑنے آیا ہوں۔

سابق سٹی ناظم کا کہنا تھا کہ قومی پرچم کو ماننے والا ایک ایک انسان محب وطن پاکستانی ہے چاہے وہ کسی بھی مسلک، کسی بھی مذہب یا کسی بھی جماعت کا ہو۔ہم چاہتے ہیں کہ کوئی ایسی پارٹی ہو جو صرف پاکستان کی پارٹی ہو۔مصطفی کمال کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں اس ملک میں حقیقی بلدیاتی نظام رائج ہو۔اگر ملک کے حالات بدلنے ہیں تو گلی محلوں تک اختیارات دیں۔

واضح رہے کہ مصطفی کمال نے 2005 سے 2009تک سٹی ناظم فرائض سرانجام دیئے ، جس کے بعد وہ سینٹ سے مستعفی ہونے کے بعد بیرون ملک چلے گئے اور اب ایک طویل عرصے کے بعد وہ دوبارہ وطن واپس آگئے ہیں ۔

Read Comments